30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ویاد خدائے تعالٰی جل جلالہ رواہ البزار [1]عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعند الطبرانی فی الاوسط [2]کحدیث ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ونماز پس فاسق بکراہت شدیدہ مکروہ است کما فی الغنیۃ [3]وغیرھا وقد فصلناہ فی رسالتنا النھی الاکید عن الصلوٰۃ وراء عدی التقلید۔ وقلیان کشید ن اگر بعقل وحواس فتور آورد چنانکہ وقت افطار رمضان معمول جہال ہندوستان است،خو دحرام است لحدیث ام سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن کل مُسْکِرو مفتر رواہ احمد وابوداؤد[4]بسند صحیح ورنہ اگر تعاھد نکنند ورائحہ کریہہ آرد،مکروہ تنزیہی وخلاف اولٰی باشد آنچنانکہ |
(یہ تینوں کام قابل تحسین ہیں)محدث بزار نے اس کو حضرت عبداﷲ ابن مسعود(اﷲ تعالٰی ان سے راضی ہو)سے روایت کیا ہے۔اور امام طبرانی نے ان سے الاوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔رہی یہ بات کہ نماز کا کیا حکم ہے تو واضح ہو کہ فاسق کے پیچھے نماز سخت مکروہ ہے جیسا کہ الغنیہ وغیرہ میں مذکور ہے ہم نے اس مسئلہ کو اپنے رسالہ النہی الاکید عن الصلوٰۃ وراء عدی التقلید میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ رہا حقہ نوشی کا تمباکو نوشی کا مسئلہ،تو اگر وہ عقل اور حواس میں فتور پیدا کرے جیسا کہ رمضان شریف میں افطار کے وقت ہندوستان کے جاہلوں کا معمول ہے تو یہ بطور خود حرام ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی ایك حدیث کی وجہ سے کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر نشہ اور فتورپیدا کرنے والی چیز کا استعمال ممنوع ہے۔امام احمد اور ابو داؤد نے سند صحیح کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے ورنہ اگر اسے معمول نہ بنائیں لیکن قابل نفرت |
[1] الجامع الصغیر بحوالہ البزار عن ابن مسعود حدیث ۴۲۸۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۶۰
[2] المعجم الاوسط حدیث ۴۰۸۴ مکتبہ المعارف ریاض ۵/ ۴۹
[3] غنیہ المستملی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳
[4] سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ باب ماجاء فی السکر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۶۳،مسند احمد بن حنبل عن ام سلمہ المکتبہ الاسلامی بیروت ۶/ ۳۰۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع