30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالجملہ زن اجنبیہ را ایں چنین بے حجابانہ بمجلس مردان را ہ دادن(یکے)وہرچہ تمام تر ہر ہفت وآراستہ بودنش(دو) مردمان رابسوئے او بنظر تلذذدیدن(سہ)وباعضائے عورت او از سر ومو ومساعد وبازو وسینہ وگلونگر یستن(چہارم)وسرود وزمزمہ اش(پنج)،ولفظ مزامیر برآں آتش تیز وتند(شش) وپائے کوبی آن زن خاصہ با آواز خلخال و زنگلہ زیور(ہفت) ودیگر حرکات فتنہ انگیز وشہوت خیز(ہشت)ایں ہمہ ہا در شرع محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حرام وحرام وحرام است، " ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍؕ"[1]۔
الحاصل حرمت ایں فاحشہ شنیعہ از ضروریات دین محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تاآنکہ ہر کہ او راحلال داند بالقطع و الیقین کافرشود،والعیاذ باﷲ تعالٰی ودیگر لہو ہائے نامشروعہ را سائل تفصیل نہ کرد بعضے از لہو ہائے ممنوعہ کبیرہ باشد،وبعضے صغیرہ کہ باصرار کبیرہ شود،وعلی الاجمال در حدیث مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ والہ وسلم آمدہ است |
(خلاصہ کلام)اس برے عمل میں بہت سی خرابیاں ہیں(۱) غیر محرم عورت کا اس طرح بے پردہ،مردوں کی محفل میں جانا،ہیجان خیز اور فتنے کا باعث ہے(۲)اس کا آراستہ و پیراستہ ہونا اور بن ٹھن کرنکلنا(۳)مردوں کا اسے شہوت کی نگاہ سے حصول لذت کے لئے دیکھنا(۴)اس کے اعضاء مثلا سر،بال،بازو،سینہ اور گلا،ان سب کی طرف دیکھنا(۵)اس کا ترنم سے گیت گانا(۶)گانے بجانے کے آلات استعمال کرنا،یہ ان پر مزید تند وتیز آگ ہے(۷)اس خاص عورت کا زور سے پاؤں زمین پر مارنا کہ جس سے اس کے زیورات کی جھنکار محسوس ہونے لگے(۸)ان سب کے علاوہ،دوسری فتنہ برپا کرنے والی حرکت اور شہوت خیز انداز یہ سب کام حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شریعت میں حرام،حرام اور حرام ہیں اور یہ ایك دوسرے پر مزید اندھیرے ہیں۔(ت) خلاصہ یہ ہے کہ اس برے اور بے حیائی کے کام کی حرمت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دین میں واضح ہے۔یہاں تك کہ جوکوئی اس کو حلال جانے وہ قطعی اور یقینی طور پر کافر ہوجائیگا اﷲ تعالٰی کی پناہ،اور دوسرے ناجائز کھیلوں کی سائل نے کوئی تفصیل ذکر نہیں کی لیکن ان میں سے بعض ممنوع اور گناہ کبیرہ ہیں اور بعض گناہ صغیرہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع