30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾"[1] از مردمان کسے است کہ مے خرد سخن لاغ وبازی تابر اندازد از راہ خدائے نادانستہ وسخر گیرد آں را،مرایں کسان کیفرے است خوار کنند، حضرت عبداﷲ بن مسعود وعبداﷲ بن عباس وامام حسن بصری وسعید بن جبیر و عکرمہ ومجاہد ومکحول وغیرہم ائمہ صحابہ وتابعین رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین دریں آیۃ کریمہ سخن لاغ وبازی رابہ غنا وسرور تفسیر فرمودہ اند۔چنانچہ ابو الصبہا گوئد ابن مسعودر ضی اﷲ تعالٰی عنہما ازیں آیت پر سپیدم گفت ھو الغناء واﷲ الذی لا الہ الا ھو او سرود است سوگند بخدائے کہ ہیچ خدائے نیست جز ا ویرددھا ثلث مرات [2]سہ بار ہمیں سخن وسوگند راتکرار فرمود بلکہ خود درحدیث آمدہ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمود لایحل تعلیم المغنیات ولا بیعھن واثما نھن حرام وفی مثل ھذا نزلت ومن الناس من یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اﷲ الحدیث(ترجمہ)روا نیست زنان سرآئندہ را آموختن ونہ آنہارا خریدن |
راہ خدا سے بہکادے اور اس کو یعنی اﷲ تعالٰی کے راستے کو ہنسی مذاق بنادے،ان لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والی سزا ہے حضرت عبداﷲ بن مسعود،حضرت عبداﷲ بن عباس،خواجہ حسن بصری،سعید بن جبیر،عکرمہ،مجاہد،مکحول،اور ان کے علاوہ دوسرے ائمہ،صحابہ کرام اور تابعین(اﷲ تعالٰی ان سب سے راضی ہو)اس آیت کریموں میں بیہودگی اور کھیل کی بات سے گانا بجانا مراد لیتے ہیں اور اس کی یہی تفسیر فرماتے ہیں۔ابوالصبہاء فرماتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے آیت مذکور کے متعلق پوچھا،تو آپ نے فرمایا کہ اس سے گانا مراد ہے،اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبودنہیں،چنانچہ اس بات اور قسم کا تین مرتبہ تکرار فرمایا، بلکہ خود حدیث پاك میں آیا ہے کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گویّا عورتوں کو تعلیم دینا جائز نہیں اور نہ ہی ان کا خرید وفروخت کرنا جائز ہے بلکہ ان کی قیمت وصول کرنا بھی حرام ہے اسی سلسلہ میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ لوگوں میں کوئی وہ شخص ہے جو یاوہ گوئی والی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع