30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھذا اذا لم یکن لہ جلاجل ولم یضرب علی ھیأۃ التطرب [1] اھ وفی الھندیۃ سئل ابویوسف عن الدف أتکرھہ فی غیر العرس بان تضرب المرأۃ فی غیر فسق للصبی قال لااکرھہ واما اللذی یجیئ منہ اللعب الفاحش للغناء فانی اکرھہ کذا فی محیط السرخسی ولا باس بضرب الدف یوم العید کما فی خزانۃ المفتین [2]اھ، وفی شھادات ردالمحتار جواز ضرب الدف فیہ(ای فی العرس)خاص بالنساء کما فی البحر عن المعراج بعد ذکرہ انہ مباح فی النکاح ومافی معناہ من حادث سرور قال ھو مکروہ للرجال علی کل حال للتشبہ بالنساء [3]واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کہ نکاح میں گانا بجانا مباح ہے جیسے دف بجانا اھ ________فتاوٰی شامی کی بحث حظر میں ہے جو فصل اللبس سے کچھ پہلے حضرت حسن سے روایت ہے کہ تشہیر کے لئے تقریب میں دف بجائی جاسکتی ہے اور دف کے بجائے میں کوئی حرج نہیں، سراجیہ میں ہےکہ یہ اجازت اس صورت میں ہے کہ دف بآواز جہار نہ ہو،اور وہ گانے کی طرز پر نہ بجائی جائے،(عبارت مکمل)اور فتاوٰی عالمگیری میں ہے امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے دف کے بجانے کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا آپ تقریب شادی کے بغیر اس کو ناپسند کرتے ہیں کہ عورت بغیر حالت فسق کے صرف بچہ کے لئے بجائے،فرمایا میں اس کو ناپسند نہیں کرتا لیکن وہ جو گانے کے لئے فحش کھیل کے طور پر بجائے تو وہ ناپسندیدہ ہے۔محیط سرخسی میں یونہی مذکور ہے۔عید کے دن دف بجانے میں کوئی مضائقہ نہیں اسی طرح خزانہ المفتین میں ہے اھ،ردالمحتار کی بحث شہادت میں ہے کہ شادی میں دف بجانا عورتوں کے ساتھ خاص ہے اس وجہ سے جو بحرالرائق میں معراج سے منقول ہے بعد اس ذکر کرنے کے کہ وہ تقریب نکاح اور خوشی کے موقع سے جو مناسبت رکھتاہو اس میں دف بجانا مباح ہے۔اور فرمایا مردوں کے لئے وہ ہر حال میں مکروہ ہے کیونکہ اس میں عورتوں سے مشابہت پائی جاتی ہے اور اﷲ تعالٰی بڑا علم والا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع