30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ ماں باپ کی بھی رعایت ومروت روانہ رکھیں کہ:
|
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالٰی[1]۔ |
اﷲ تعالٰی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔(ت) |
ہاں شرع مطہر نے شادی میں بغرض اعلان نکاح صرف دف کی اجازت دی ہے جبکہ مقصود شرع سے تجاوز کرکے لہو مکروہ و تحصیل لذت شیطانی کی حد تك نہ پہنچے،ولہذا علماء شرط لگاتے ہیں کہ قواعد موسیقی پر نہ بجایا جائے،تال سم کی رعایت نہ ہو نہ اس میں جھانج ہوں کہ وہ خوا ہی نخواہی مطرب وناجائز ہیں۔پھر اس کا بجانا بھی مردوں کو ہر طرح مکروہ ہے۔نہ شرف والی بیبیوں کے مناسب بلکہ نابالغہ چھوٹی چھوٹی بچیاں یا لونڈیاں باندیاں بجائیں،اور اگر اس کے ساتھ کچھ سیدھے سادے اشعار یا سہرے سہاگ ہوں جن میں اصلا نہ فحش ہو نہ کسی بے حیائی کا ذکر،نہ فسق وفجور کی باتیں،نہ مجمع زنان یافاسقان میں عشقیات کے چرچے نہ نامحرم مردوں کو نغمہ عورات کی آواز پہنچے،غرض ہر طرح منکرات شرعیہ ومظان فتنہ سے پاك ہوں،تو اس میں مضائقہ نہیں۔جیسے انصار کرام کی شادیوں میں سمدھیانے جاکر یہ شعر پڑھاجاتاتھا ؎
اتینا کم اتیناکم فحیانا وحیاکم [2]
یعنی ہم تمھارے پاس آئے ہم تمھارے پاس آئے،اﷲ ہمیں زندہ رکھے تمھیں بھی جلائے یعنی زندہ رکھے۔
پس اس قسم کے پاك وصاف مضمون ہوں،اصل حکم میں تو اسی قدر کی رخصت ہے مگر حال زمانہ کے مناسب یہ ہے کہ مطلق بندش کی جائے کہ جہال حال خصوصا زنان زمان سے کسی طرح امید نہیں کہ انھیں جو حد باندھ کر اجازت دی جائے اس کی پابند رہیں اور حد مکروہ وممنوع تك تجاوز نہ کریں۔لہذا سرے سے فتنہ کا دروازہ ہی بند کیا جائے نہ انگلی ٹیکنے کی جگہ پائیں گی نہ آگے پاؤں پھیلائیں گی،خصوصا بازاری فاجرہ فاحشہ عورتوں،رنڈیوں،ڈومنیوں کو تو ہر گز ہر گز قدم نہ رکھنے دیں کہ ان سے حد شرع کی پابندی محال عادی ہے۔وہ بے حیائیوں فحش سرائیوں کی خوگرہوتی ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع