30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شعبۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
مانگنا،امام بخاری نے اس کو حضرت مغیرہ بن بن شعبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے(ت) |
شیخ محقق مولٰنا عبدالحق محدث دہلوی ماثبت بالسنۃ میں فرماتے ہیں:
|
من البدع الشنیعۃ ماتعارف الناس فی اکثر بلاد الہند من اجتماعھم للھو واللعب بالنار،واحراق الکبریت [1]اھ مختصرًا۔ |
بری بدعات میں سے یہ اعمال ہیں جو ہندوستان کے زیادہ تر شہروں میں متعارف اور رائج ہیں جیسے آگ کے ساتھ کھیلنا اور تماشہ کرنے کے لئے جمع ہونا گندھك جلانا وغیرہ اھ مختصرًا (ت) |
اسی طرح یہ گانے بجانے کہ ان بلاد میں معمول ورائج ہیں بلا شبہہ ممنوع وناجائز ہیں خصوصا وہ ناپاك وملعون رسم کہ بہت خران بے تمیز احمق جاہلوں نے شیاطین ہنود ملاعین بے بہبود سے سیکھی یعنی فحش گالیوں کے گیت گوانا اور مجلس کے حاضرین وحاضرات کو لچھے دار سنانا سمدھیانہ کی عفیف و پاکدامن عورتوں کو الفاظ زنا سے تعبیر کرنا کرانا خصوصا اس ملعون بے حیا رسم کا مجمع زنان میں ہونا ان کا اس ناپاك فاحشہ حرکت پر ہنسنا،قہقہے اڑانا،اپنی کنواری لڑکیوں کو یہ سب کچھ سناکر بدلحاظیاں سکھانا،بے حیا،بے غیرت،خبیث،بے حمیت مردوں کا اس شہدہ پن کو جائز رکھنا،کبھی برائے نام لوگوں کو دکھاوے کہ جھوٹ سچ ایك آدھ بار جھڑك دینا،مگر بندوبست قطعی نہ کرنا،یہ وہ شنیع،گندی اور مردود رسم ہے جس پر صدہا لعنتیں اﷲ عزوجل کی اترتی ہیں اس کے کرنے والے اس پر راضی ہونے والے۔اپنے یہاں اس کا کافی انسداد نہ کرنے والے سب فاسق فاجر،مرتکب کبائر مستحق غضب جبار و عذاب نار ہیں والعیاذ باﷲ تبارك وتعالٰی،اﷲ تعالٰی مسلمانوں کو ہدایت بخشے آمین،جس شادی میں یہ حرکتیں ہوں مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس میں ہر گز شریك نہ ہوں اور اگر نادانستہ شریك ہوگئے تو جس وقت اس قسم کی باتیں شروع ہوں یا ان لوگوں کا ارادہ معلوم ہو تو سب مسلمان مردوں عورتوں پر لازم ہے کہ فورا اسی وقت اٹھ جائیں اور اپنی جورو بیٹی، ماں،بہن کو گالیاں نہ دلوائیں،فحش نہ سنوائیں،ورنہ یہ بھی ان ناپاکیوں میں شریك ہوں گے اور غضب الٰہی سے حصہ لیں گے والعیاذ باﷲ رب العالمین۔زنہار زنہار اس معاملہ میں حقیقی بہن بھائی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع