30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زوجہ کی رعایت سے اور ساس جو کچھ کرے گی اپنی بیٹی کے دباؤ سے اور یہ جائز نہیں لہذا اس سے احتراز کرنا چاہئے اگر چہ ناگواری ظاہر نہ ہو کہ ظاہر ناگواری ہے اور بہن فقط مثال ہے بیٹی بھتیجی بھانجی کا بھی یہی حال ہے جبکہ مال ومکان ان کے شوہروں کا ہو شرعا بھائی بھتیجے بھانجے کا بھی یہی حاکم ہے جبکہ مروت وخاطر مع ناگواری باطن ہو مگر یہاں مروت خود اس کی ذات کے باعث ہے اور وہاں دی ہوئی بیٹی کے ذریعہ سے لہذا اسے زیادہ معیوب سمجھا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۶ تا ۸۸: از شہر کوٹہ راجپوتانہ محلہ لاڈپورہ معرفت گانس بہرو کے مسئولہ الٰہی بخش لوہار ۲۸ جمادی الاولٰی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)شادی میں ہندؤوں کی رسم کے موافق گانے اور باجے کے ساتھ کمھار کے گھر سے برتن لانے کے واسطے کیا حکم ہے؟
(۲)شادی میں کپڑا پہناتے وقت ہندوؤں کی طرح پیشانی میں ہلدی کا ٹیکا لگانا کیسا ہے؟
(۳)لڑکے کی سالگرہ کے روزلچھے میں عمر کی گرہ لگانا کیسا ہے؟
الجواب:
(۱)ناجائز ہے وگناہ ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)ناجائز وگناہ ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳)ناجائز ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۹: از دیوگڑھ میواڑ راجپوتانہ مرسلہ عبدالعزیز صاحب ۸ شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں دونوں عیدوں پر مسلمان بڑے تزك واحتشام سے اسلام کی شان وشوکت ظاہر کرتے ہیں یعنی نماز کے لئے جاتے وقت توپوں کے فَیر ہوتے ہیں اور نشان و گھوڑا وتاشے بجتے ہوئے عیدگاہ کو جاتے ہیں اور قاضی صاحب شاہی جامہ پہنتے ہیں بعد فراغت نماز دوسرے دروازہ سے شہر میں داخل ہوتے ہیں یہ محض اسلامی شان وشوکت بمقابلہ کفا ر کی جاتی ہے اور تمام لوازمہ منجانب رئیس ریاست یہاں کے آتاہے۔اگر تاشے وغیرہ موقوف کئے جائیں تو فتنہ وفساد برپاہونے کی صورت میں اس میں کوئی خرابی تو لازم نہیں آتی ہے؟
الجواب:
عید کے لئے نشان لے جانا اور عمدہ لباس پہننا تو سنت ہے اور گھوڑے کی سواری بھی فی نفسہٖ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع