30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اَعْمٰمِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ عَمّٰتِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اَخْوٰلِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ خٰلٰتِکُمْ اَوْ مَا مَلَکْتُمۡ مَّفَاتِحَہٗۤ اَوْ صَدِیۡقِکُمْ ؕ"[1] |
اختیار میں ہیں یا اپنے دوست کے یہاں۔ |
اس اجازت میں جیسے ایك وقت کا کھانا داخل ہے یوں ہی بشرط رضا وعدم بارچند وقت کا خصوصا جبکہ بہن یا ساس یا ان لوگوں کا مکان دوسرے شہر میں ہو اور یہ بعد مدت ملنے کو جائے جب تك یہ نہ جانے کہ ان پر باروناگوار نہ ہوگا جہاں تك ایسے تعلقات میں ایسے بعد سے اتنے دنوں بعد مہمان داری معروف ہے بلا شبہہ رہ سکتاہے ہاں اتنا رہنا کہ اکتا جائے اور ناگوار ہو ناجائز اور وہ کھانا بھی ناجائز اگر چہ ماں باپ ہی کا گھر ہو،ہاں ماں باپ جبکہ محتاج ہو مالدار اولاد کے یہاں جتنے دن چاہیں رہ سکتے ہیں اگرچہ اسے ناگوار ہوکہ اس کے مال میں اتنا ان کا حق ہے اس کی بے مرضی بھی لے سکتے ہیں یہ سب عارضی طور پر رہنے میں کلام تھا اب جو لوگ معیوب جانتے ہوں ان کا زعم بالکل مردود واتباع کفار ہنود ہے۔رہا دوسرے کے یہاں سکونت اختیار کرنا یہ سوا محتاج ماں باپ کے کسی کے گھر بے اس کی رضا کے اصلا حلال نہیں اگر چہ بھائی یا باپ کے یہاں ہو اگر چہ فقط سکونت ہو کھائے اپنا مگر وہ کسب سے عاجز و محتاج جس کا نفقہ شرع نے اس صاحب مکان پر واجب کیا یہ رہ سکے گا اور کھانا بھی اسی کے سر کھائیگا اسے گوارہ ہو خواہ ناگوار،بھائی ہو یا بہن،ساس اس میں داخل نہیں کہ اس کے ذمہ اس کا نفقہ نہیں ہوسکتا ہاں عاجز محتاج کا نفقہ جس پر شرعًا لازم ہے اگر نہ وہ اس کی اولاد میں ہے نہ یہ اس کی اولاد میں تو بے اس کی رضا کے جبرا اس کا بار اس پر ڈالنا بحکم حاکم ہوگا خو د یہ اس کا اختیار نہیں رکھتا،ردالمحتار میں ہے:
|
نفقۃ قرابۃ غیر الولاد وجوبھا لایثبت الا بالقضاء او الرضاء [2]۔ |
ایسے رشتے دار کا خرچہ جو اولاد میں شامل نہ ہو اس کے خرچے کا وجوب فیصلہ قاضی یا خرچہ دینے والے کی رضا مندی کے بغیر ثابت نہیں ہوسکتا۔ |
حکم شرع یہ ہے اس کے خلاف جو کچھ ہو باطل ہے ظاہرا یہ تخصیص اس خیال سے ہو کہ بہن کا اپنا گھر اور مال غالبا نہیں ہوتا بلکہ اس کے شوہر کا اور وہ اگر ناگواری نہ ظاہر کرے تو غالبًا مروت اور اپنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع