30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی نسبت محض جھوٹ برا افترا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۴: از کمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدا بخش زردوز مالك فلور مل اسلامیہ ۲۰ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
اکثر لوگ ۳،۱۳ یا ۲۳،۸،۱۸،۲۸ وغیرہ تواریخ پنجشنبہ ویك شنبہ و چہارشنبہ وغیرہ ایام کو شادی وغیرہ نہیں کرتے،اعتقاد یہ ہے کہ سخت نقصان پہنچے گا،ان کا کیاحکم؟
الجواب:
یہ سب باطل وبے اصل ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۵: از مقام را م باغ ڈاکخانہ خاص ضلع دیرہ دون مرسلہ حکیم محمد فضل الرحمن صاحب مورخہ ۱۶ جمادی الثانی ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جیسے یہ مثال یا مثلہ اہل اسلام میں رائج عملدرآمد کے ساتھ ہے کہ بہن کے گھر بھائی کتا اور خوشدامن کے گھر داماد کتا،جہاں تك دریافت ہوا ظاہر ہوتاہے کہ یہ مثال ہنود کے یہاں قطعی طور پرا رئج ہے مگر اہل اسلام میں نہایت سرگرمی کے ساتھ شامل کرلیا ہے اور اس پر عملدرآمد کیاجاتاہے وہ لوگ جو بہن کے گھر یا خوشدامن کے گھر رہتے ہیں نہایت بری نظر او ر بے عزتی کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں آیا ازروئے شرع شریعت بہن کے گھر بھائی کا رہنا جائز ہے یا نہیں؟ اور خوشدامن کے گھر داماد کا رہنا جائز ہے یانہیں؟ کن وجوہات سے اس کا رواج اسلام میں یا اتفاق سے ہندوستان کے ہر طبقہ میں پھیلا ہوا ہے اس کی اصلیت کیا ہے ؟ امید کہ بواپسی مطلع فرمایا جائے۔فقط
الجواب:
رسم مردود ہنود یہ ہے یہ ہے کہ بہن بیٹی کے گھر کا پانی پینا برا جانتے ہیں کھانا تو بڑی چیز ہے یہ رسم ضرور ناپاك ومردود ہے۔ مولٰی سبحانہ وتعالٰی قرآن کریم میں فرماتاہے:
|
" لَیۡسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الْمَرِیۡضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمْ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا مِنۡۢ بُیُوۡتِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اٰبَآئِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اُمَّہٰتِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اِخْوٰنِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اَخَوٰتِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ |
نہ اندھے پر تنگی نہ لنگڑے پر نہ بیمار پر نہ آپ تم پر کہ اپنی اولاد کے گھر کھانا کھاؤ یا اپنے باپ کے گھر یا ماں کے گھر یا بھائیوں کے گھر یا بہنوں کے گھر یا چچا کے گھر یا پھوپی کے گھر یا ماموں کے گھر یا خالہ کے گھر یا جس کی کنجیاں تمھارے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع