30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اگر وہ صدقات ان شرعی طریقوں پر ہیں جو ہم ذکر کر آئے اور یہ شخص محل صدقہ لینے میں اصلا حرج نہیں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۹: از بریلی مرسلہ میلاد خواں یکشنبہ ۱۷ شوال ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ھذا میں کہ اکثر برادری میں جو کھانے ہوتے ہیں ان کا قاعدہ یہ ہے کہ بسا اوقات نیت اس کے اندرریاء وتفاخر کی ہوتی ہے اور اس رسم کو ایسا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص برادری والا ناداری کی وجہ سے نہ کھلا سکے تو اس کو طعنہ دیتے ہیں اور اس کو ایسا لازمی امر خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر نہ کھلائیں گے تو برادری میں ہماری ناك کٹی ہوجائے گی اور اگر پاس نہیں ہو تا تو اس کام کے لئے سودی روپیہ قرض لیتے ہیں پس عرض ہے کہ اس کھلانے کا طعنہ دینے والے کا شرعًا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر پائے۔ت)
الجواب:
یہ کھلانا اگرریاء وتفاخر کی نیت سے ہے تو حرام ہے۔اگر طعنہ بے جا سے بچنے کو ہے تو اسے مباح اور طعنہ دینے والوں مجبور کرنے والوں کو حرام،
|
لحدیث اقطع عنی لسانہ وصرح العلماء باستثنائہ من قاعدۃ ماحرم اخذہ حرم اعطاؤہ [1]۔ |
بوجہ حدیث مجھ سے اس کی زبان کاٹ دیجئے یعنی اس کا منہ بند کردیجئے،اور علماء کرام نے اس قاعدہ(کہ جس کالینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے)سے مستثنٰی قرار دیا ہے۔(ت) |
اگر ان وجوہ سے پاك بطور صلہ رحم وسلوك حسن وشکر نعمت ومواسات جیران واحبا مواقع فرحت وسرور جائز شرعی میں ہو تو حسن ومستحب۔
|
وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرء مانوی [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اعمال کا مدار نیتوں پر ہے ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۷۰: ربیع الاول شریف ۱۳۱۶ھ
نیا مکان بنایا جائے تو ارتفاع اس کا سات گز سے زیادہ بنانا شرعا جائز ہے یانہیں؟ اگر ممنوع ہو تو بحوالہ کتاب جواب مرحمت فرمایاجائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع