30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال تعالٰی " وَاٰتُوۡا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ ۫ۖ "[1]۔ |
(لوگو!)کھیتی سے(حقداروں کا)حق اس کی کٹائی والے دن ادا کردیا کرو۔(ت) |
اور اس کے روکنے کی مذمت قصہ اصحاب الجنہ میں مذکور۔
|
قال تعالٰی "فَتَنَـادَوۡا مُصْبِحِیۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾ اَنِ اغْدُوۡا عَلٰی حَرْثِکُمْ اِنۡ کُنۡتُـمْ صٰرِمِیۡنَ ﴿۲۲﴾ فَانۡـطَلَقُوۡا وَ ہُمْ یَتَخٰفَتُـوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾ اَنۡ لَّا یَدْخُلَنَّـہَا الْیَـوْمَ عَلَیۡکُمۡ مِّسْکِیۡنٌ ﴿ۙ۲۴﴾ "[2] الاٰیات
|
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:وہ باغ والے صبح ہوتے ہی سویرے سویرے ایك دوسرے کو بلانے لگے کہ سویرے اپنی کھیتی کی طرف چلو اگر تم اسے کاٹنے کا ارادہ رکھتے ہو پھر وہ چلنے لگے جبکہ وہ آپس میں آہستہ آہستہ کہہ رہے تھے کہ آج تمھارے پاس کوئی محتاج نہیں آنا چاہئے۔(یعنی کسی محتاج کو اپنے قریب نہ آنا دیا جائے)(ت) |
اور اس کا ثواب نذر روح اقدس کرنا اس عمل طیب میں طیب وخوبی ہی بڑھائے گا جبکہ کسی عقیدہ باطلہ کے ساتھ نہ ہو اس صورت میں اسے:
|
"وَ جَعَلُوۡا لِلہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الۡاَنْعٰمِ نَصِیۡبًا فَقَالُوۡا ہٰذَا لِلہِ بِزَعْمِہِمْ وَہٰذَا لِشُرَکَآئِنَا ۚ"[3] الاٰیۃ۔ |
جو کھیتی اور جانور اﷲ تعالٰی نے پیدا کئے ان میں انھوں نے اﷲ تعالٰی کا ایك حصہ مقرر کیا ہے۔پھر وہ اپنے خیال میں باطل کی بناء پر کہنے لگے یہ اﷲ تعالٰی کا حصہ ہے اور ہمارے شریکوں کا، الآیۃ(ت) |
میں داخل سمجھنا محض جہالت وزبان زوری ہے کما لایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)
(۵)لڑکوں کے سر پر چوٹی رکھنی ناجائز اور فعل مذکور رسوم ملعونہ کفار سے تشبہ ہے جس سے احترازلازم۔
(۶)جو شخص اپنے احوال مذکورہ بروجوہ مذمومہ سے صدقہ لیتا ہے اگر ان اعتقادات باطلہ میں ان کا شریك تو خود بھی فاسق ومبتدع ہے جس کی امامت مکروہ اور اس کے ہاتھ پر بیعت جہالت ورنہ ان کے لینے سے احتراز چاہئے مگر ان کے فسق وبدعت کا وبال اس کے سر نہ ہوگا۔
|
قال تعالٰی " وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ"[4]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع