30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی قیمت کرواکے اس کا دسواں حصہ جناب پیران پیر کے نام سے دیتے ہیں اور اعتقاد یہ ہوتا ہے کہ ایسا کرنے سے لڑکا جیتا رہتا ہے اور ایسا ہی جانوروں اگر بیل ہے یا بھینسا ہے تو اسے ہل جوتنے کے وقت اور اگر مادہ ہے تو اس کے بیاہنے کے وقت قیمت کا دسواں حصہ دیتے ہیں اور نیز درختوں کو پیر صاحب کا کرکے اس کا جلانا اور دیگر استعمال میں لانا حرام سمجھتے ہیں حتی کہ وہ یودہا ہوکر گرپڑے اور پڑا پڑا یودہا ہوجائے اور کھیتوں سے بھی حصہ پیر صاحب کے نام دیتے ہیں جائز ہے یا نہیں؟ اور ایسے شخص کے حق میں کیا حکم ہے؟ اور نیز بودی یعنی چوٹی مثلا قوم ہنود بچوں کے سروں پر رکھتے ہیں اگر پوچھا جائے یہ کیا ہے تو پیر صاحب کی بودی بتلاتے ہیں اور ایسے ہی مدار پیر کی چٹا پھر مدت معہود کے بعد اسے پیر صاحب کی منت دے کر نہایت ادب کے ساتھ اپنی رسمیں پور ی کرکے منڈواتے ہیں اور جو شخص اس دسوندھی بچہ وغیرہ کی قیمت پاتاہے اس قیمت اور ہنسلیاں کے دسویں حصہ سے نیازلیتاہے آیا ایسے شخص کی امامت اور بیعت درست ہے یانہیں؟
الجواب:
(۱)دسوندی نام کفار ہنود سے ماخوذ ہے اور مسلمان کو ممانعت ہے کہ کافروں کے نام رکھے کما صرحوا بہ فی التسمی بیوحنا وغیرہ(جیسا کہ یوحنا نام رکھنے کے متعلق فقہاء نے تصریح فرمائی ہے۔ت)اور لڑکے کو ہنسلی وغیرہ زیور پہنانا حرام ہے فان ما حرم اخذہ حرم اعطاء ہ [1](کیونکہ جس چیز کا لینا حرام اس کا دینا بھی حرام ہے۔ت)اور لڑکے کے قیمت کرنی جہالت ہے اور یہ اعتقاد کہ ایسا کرنے سے لڑکا جیتا ہے اگر اس معنی پر سمجھے ہیں کہ یوں کرینگے تو جئے گا ورنہ مرجائے گا تو سخت جہل بے بہبود اعتقاد مردود ومشابہ خرافات ہنود وغیرہم کفار عنود ہے۔ہاں اگر ان بیہودہ باتوں کو چھوڑ کر صرف اس قدر کرتے کہ مولٰی عزوجل کے نام پر محتاجین کو صدقہ دیتے اور اس کا ثواب نذر روح پر فتوح حضور پر نور غوث الثقلین غیث الکونین صلی اﷲ تعالٰی علی جدہ الکریم وعلیہ وبارك وسلم کرتے اور نیت یہ ہوتی کہ رب تبارك و تعالٰی صدقے کے سبب بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور بوجہ ایصال ثواب سرکار غوثیت رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے برکات رضا ودعا وتوجہ شامل حال ہوں گے اور ان پر محبوب کریم رضوان اﷲ تعالٰی علیہ کی بارگاہ میں عقیدت ونیاز مندی کے اظہار سے اﷲ سبحانہ وتعالٰی خوش ہوگا اور اس کی خوشی جالب رحمت وسالب زحمت ہوگی اور حیات نہ ہوگی مگر وقت معہود تك اور موت نہ رکے گی مگر اجل معلوم تك تویہ اعتقاد وعمل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع