30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تمامتر روشن وپرنور کردہ ام ونیز آنجاتحقیق نمودہ کہ حدیث والمتخذین علیھا السرج [1] کہ مخالفان دریں باب بادچنگ زنند بقطع نظرا ز انکہ درسند اوباذام ضعیف درایۃ نیز مخالف راغیر نافع ست آرے روشنی لغووفضول راچنانکہ بعضے مراد مان شب ختم قرآن یا در بعض اعراس بزرگان کنند کہ صدہا چراغ بترتیب عجیب ووضع غریب زیر وبالا برابر نہند درکتب فقہیہ ہمچو غمزالعیون وغیرہ بنظر اسراف منع فرمودہ اند وشك نیست کہ جائیکہ اسراف صادق ست اجتناب قطعا لازم ولائق است۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
فرمائے،قبرستان اور مزارات پر شمع جلانے کے مسئلہ کو فقیر نے اپنے مالك مستقل رسالہ میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے رسالے کا نام ہے طوالع النور فی حکم السرج علی القبور(نور کے نورانی مطالع قبروں پر چراغاں کرنے کے حکم کے بیان میں۔ ت) میں نے اس میں یہ تحقیق بھی پیش کی ہے کہ حدیث میں قبروں پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی جانے والی روایت سے مخالفین جو استدلال اور سہارا لیتے ہیں اس کا حقیقی مفہوم کیا ہے۔قطع نظر اس سے کہ اس حدیث کی سند میں باذام نامی راوی ضعیف ہے۔از روئے عقل بھی مخالفین کے لئے مفید نہیں،البتہ روشنی کا بے فائدہ اور فضول استعمال جیسا کہ بعض لوگ ختم قرآن والی رات یا بزرگوں کے عرسوں کے مواقع پر کرتے ہیں سیکڑوں چراغ عجیب وغریب وضع وترتیب کے ساتھ اوپر نیچے اور باہم برابر طریقوں سے رکھتے ہیں محل نظر ہے اور اسراف کے زمرے میں آتا ہے چنانچہ فقہائے کرام نے کتب فقہ مثلا غمز العیون وغیرہ میں اسراف(فضول خرچی)کی بنا پر ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔اس میں کوئی شك نہیں کہ جہاں اسراف صادق آئے گا وہاں پرہیز ضروری ہے۔اﷲ تعالی پاک۔برتر اور خوب جاننے والا ہے۔ (ت) |
مسئلہ ۶۸: از جالندھر محلہ راستہ پھگوڑہ دروازہ مرسلہ شیخ محمد شمس الدین صاحب ۲۲ رجب ۱۳۱۰ھ
بعض لوگ جناب پیران پیر کا پیوند دیتے ہیں کیفیت اس کی اس طرح ہے کہ جب لڑکا پیدا ہوتا ہے توا س کا نام پیوندی رکھتے ہیں اور جب سال کا ہوا اس کے گلے میں ہنسلی ڈال دیتے ہیں اور اس طرح دوسرے برس ۱۴ یا ۱۵ سال تك جب وہ لڑکا اس عمر تك پہنچادے وہ ہنسلیاں اور لڑکے
[1] مسند امام احمد بن حنبل عن ابن عباس دارالفکر بیروت ۱/ ۲۲۹،جامع الترمذی باب کراھیۃ ان یتخذ علی القبر مسجدا امین کمپنی دہلی ۱/ ۴۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع