30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
|
تزئین مذکورشرعا جائز ست قال تعالٰی " قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللہِ الَّتِیۡۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ "[1]ہمچناں روشنی بقدر حاجت و مصلحت نیز وحاجت باختلاف ضیق وسعت مکان وقِلت وکثرت مردمان ووحدت و تعدد منازل وغیر ذٰلك مختلف گردددر منزلے تنگ ومجمع قلیل دوسہ چراغ باہمیں یکے بسند ست ودردار وسیع ومجمع کثیر و منازل عدیدہ حاجت تابدہ وبست و بیشتر می رسد امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ بماہ رمضان شب بمسجد درآمد چراغاں دید کہ مسجد درخشاں نورافشاں شدہ است امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ رابہ دعایاد کردوگفت نورت مساجدنا نور اﷲ قبرك یابن الخطاب [2]ای بن خطاب مساجد مارا نور آگیں کردی خدائے گورت پر نور کند ومسئلہ شمعہ در مقابرومزارات افر و ختن را فقیر در رسالہ مستقلہ مسمی بہ طوالح النور فی حکم السرج علی القبور ہرچہ |
مذکورہ زیب وزینت شرعا جائز ہے۔اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے فرمادیجئے کہ اس زینت وزیبائش کو کس نے حرام ٹھہرادیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے ظاہر فرمائی ہے۔اسی طرح ضرورت اور مصلحت کے مطابق روشنی کا انتظام کرنا بھی جائز ہے(مختلف حالات کے لحاظ سے ضرورت بدلتی رہتی ہے) مثلًا مکان کی تنگی اور کشادگی۔لوگوں کی قلت وکثرت،منازل کی وحدت وتعدد وغیرہ ان صورتوں میں ضرورت اور حاجت میں تبدیل آجاتی ہے۔تنگ منزل اور تھوڑے مجمع میں دو تین چراغ بلکہ ایك بھی کافی ہوتاہے۔کشادہ اور بڑے گھر زیادہ لوگوں اور متعدد منزلوں کے لئے دس بیس بلکہ ان سے بھی زیادہ کی ضرورت پڑتی ہے،امیر المومنین سیدنا حضرت علی کرم اﷲ وجہہ رمضان شریف میں رات کے وقت مسجد نبوی میں تشریف لائے تو مسجد کو چراغوں سے منور اور جگمگاتے ہوئے دیکھا کہ ہر سمت روشنی پھیل رہی تھی آپ نے امیر المومنین سیدناحضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو بذریعہ دعا یاد فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اے فرزند خطاب! تم نے ہماری مساجد کو منور وروشن کیا اﷲ تعالٰی تمھاری قبر کو منور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع