30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھذہ الروایۃ محمولۃ علی من مات کافرا اوانھا اخرجت مخرج التغلیظ والتنفیر اوانھا قبل علمہ بانہ یشفع عموما وخصوصًا [1]۔ |
یہ روایت محمول ہے اس شخص پر جو کافر مرا یا یہ کہ روایت تغلیظ وتنفیر کے طور پر بیان ہوئی یا یہ کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس بات کے علم سے پہلے کی بات ہے کہ وہ شفاعت عامہ وخاصہ فرمائیں گے(م) |
علامہ مناوی تیسیر میں زیر حدیث"کل سبب ونسب"فرماتے ہیں:
|
لایعارضہ قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاھل بیتہ لا اغنی عنکم من اﷲ شیئا لان معناہ انہ لایملك لھم نفعالکن اﷲ یملکہ نفعھم بالشفاعۃ فھو لایمبلکہ الا ماملکہ ربہ [2]۔ |
حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا اپنے اہلبیت سے لااغنی عنکم فرمانا اس حدیث کے معارض نہیں اس لئے کہ معنی یہ ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان کے نفع کے مالك نہیں لیکن اﷲ تعالٰی شفاعت کے ذریعہ ان کے نفع کامالك بنائیگا پس وہ نہیں ہیں مالك مگر اس کے جس کا ان کو ان کے رب نے مالك بنایا۔ |
حضرت شیخ محقق قدس سرہ اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
|
غایت وانذارومبالغہ درآنست ولافضل بعضے ازیں مذکورین ودرآمد ایشاں بہشت را شفاعت آں سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مرعصاۃ امت را چہ جائے اقربائے خویشاں وے باحادیث صحیحہ ثابت شدہ است وباوجود آں خوف لاابالی باقیست وایں مقام تقاضائے ایں حال گردو تواند کہ احادیث فضل وشفاعت بعد ازاں ودرودیافتہ باشند وبالجملہ مامور شداز جانب پروردگار تعالٰی بانذار |
اس میں غایت اور انذار اور مبالغہ ہے اور ان مذکور حضرات کی دیگر بعض سے فضلیت نہیں اور آنا ان کا بہشت میں اور سرکار دو عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ہم گنہ گار امت کی شفاعت کرنا چہ جائے کہ اپنے اقرباء کی احادیث صحیحہ سے ثابت ہوئی ہے اور باوجود خوف لاابالی باقی ہے اوریہ مقام اس حال کا متقاضی ہے اور معلوم ہوناچاہئے کہ فضیلت وشفاعت والی احادیث اس کے بعد وارد ہوئی ہیں،خلاصہ یہ کہ اﷲ تعالٰی کی طرف |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع