30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لااعنی عنکم من اﷲ شیئا ای بمجرد نفسی من غیر ما یکر منی بہ اﷲ تعالٰی من نحو شفاعۃ اومغفرۃ وخاطبھم بذٰلك رعایۃ لمقام التخویف والحث علی العمل والحرص علی ان یکونوا اولی الناس حظا فی تقوٰی اﷲ تعالٰی وخشیتہ ثم اوما الی حق رحمہ اشارۃ الی ادخال نوع طمانیۃ علیھم وقیل ھذا قبل علمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بان الانتساب الیہ ینفع و بانہ یشفع فی ادخال قوم الجنۃ بغیر حساب ورفع درجات اٰخرین واخراج قوم من النار [1]۔ |
علیہ وسلم کے اس قول کے کہ میں اﷲ کے نزدیك تمھیں کسی کام نہ آؤں گا یعنی بطور خودماسوائے اس کے جس کی اﷲ تعالٰی مجھے کرامت بخشے گا جیسے شفاعت یا مغفرت،اور ان سے خطاب فرمایا اس کے ساتھ(تمھیں نفع نہ دوں گا)مقام تخویف کی رعایت کرتے ہوئے اور عمل پر ابھارنے اور اس بات پر حرص دلانے کے لئے کہ وہ اﷲ تعالٰی سے ڈرنے اور اس کی خشیت میں لوگوں میں بہتر نصیبے والے ہوں،پھر اشارہ فرمایا اپنے حق تعلق کی جانب،اشارہ فرمایا اس قول تك کہ فرمایا انھیں اطمینان دلادیا اور کہا گیا کہ یہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس بات کے جاننے سے پہلے کی بات ہے کہ آپ کی طرف انتساب نفع دیتاہے اور اس بات کے جاننے سے پہلے کہ وہ امت کو جنت میں بغیر حساب داخل کرے گا۔اوردرجوں پر درجہ بلند کرنے اور امت کو دوزخ سے نکالنے میں شفیع ہوں گے۔(ت) |
اسی میں بعض احادیث نفع نسب کریم ذکرکرکے فرماتے ہیں:
|
ولا ینافی ھذہ الاحادیث ما فی الصحیحین وغیرھما انہ لما انزل قولہ تعالٰی وانذر عشیرتك الاقربین فجمع قومہ ثم عم وخص بقولہ لااغنی عنکم من اﷲ شیئا حتی قال یافاطمۃ بنت محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلیھا وسلم الخ اما لان |
اور یہ احادیث منافی نہیں ہے ان احادیث کے جو صحیحین وغیرہ میں ہیں کہ جب اﷲ تعالٰی کافرمان وانذر عشیرتك الاقربین نازل ہوا تو آپ نے اپنی قوم کو جمع فرمایا پھر اپنے قول لااغنی عنکم من اﷲ شیئا کو عام وخاص دونوں طریقے سے بیان فرمایا کہ اے فاطمہ بنت محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیھا وسلم) یا تو اس لئے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع