30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بنت عبدالمطلب رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے لئے مروی ہے کہ وہ اپنے پسر کی وفات پر بآواز روئیں،ان سے وہی کہا گیا:
|
ان قرابتك من محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا تغنی عنك من اﷲ شیئا [1]۔ |
محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی قرابت اﷲ کے یہاں کچھ کام نہ دے گی۔ |
حضور سے رشتہ وعلاقہ مضبوط تر ہے
ایك موقعہ پر حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو جمع فرماکر بر سر منبر ان کا وہ رد جلیل ارشاد فرمایا کہ:"کیا ہوا انھیں جو میری قرابت نافع نہیں بتاتے۔ہر رشتہ وعلاقہ قیامت سے قطع ہو جائے گا مگر میرا رشتہ وعلاقہ کہ دنیا وآخر ت میں پیوستہ ہے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم"رواہ کما تقدم البزار [2]۔امام ابن حجر مکی صواعق میں فرماتے ہیں:
|
قال المحب الطبری وغیرہ من العلماء انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ لایملك لاحد شیئا لا نفعا ولا ضررالکن عزوجل یملك نفع اقاربہ بل وجمیع امتہ بالشفاعۃ العامۃ والخاصۃ فھو لایملك الا مایملکہ لہ مولاہ کما اشارالیہ بقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم غیر ان لکم رحما سابلھا بلالھا وکذا معنی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم |
محب طبری وغیرہ علماء نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(بنفسہٖ)کسی چیز کے مالك نہیں۔نہ نفع کے نہ نقصان کے ہاں اﷲ عزوجل نے ان کو مالك بنایا ہے اپنے اقارب بلکہ اپنی تمام امت کے نفع کا شفاعت عامہ وخاصہ کے ذریعہ،تو وہ بذات خود مالك نہیں ہیں۔ہاں انکے مولٰی نے ان کو مالك بنایا ہے جیسا کہ اس طرف اشارہ فرمایا اپنے اس ارشاد گرامی میں(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)مگر یہ کہ تمھارے لئے ایك تعلق ہے _________ اور یہی معنی ہیں حضور صلی اﷲ تعالٰی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع