30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں کروں گا)میں نفی اغنائے ذاتی ہے نہ کہ معاذاﷲ سلب اغنائے عطائی کہ حدیث متواترہ شفاعت،واجماع اہل سنت کے خلاف ہے۔جیسا کہ وہ طاغی باغی سرکش اپنی تقویۃ الایمان میں لکھتا ہے:"پیغمبر نے سب کو اپنی بیٹی تك کو کھول کر سنادیا کہ قرابت کا حق ادا کرنا اسی چیز میں ہوسکتا ہے کہ اپنے اختیار کی ہو،سو یہ میرا مال موجود ہے اس میں مجھ کو کچھ بخل نہیں۔اور اﷲ کے یہاں کا معاملہ میرے اختیار سے باہر ہے وہاں میں کسی کی حمایت نہیں کرسکتا اور کسی کا وکیل نہیں بن سکتا سو وہاں کا معاملہ ہر کوئی اپنا اپنا درست کرے اور دوزخ سے بچنے کی ہر کوئی تدبیر کرے[1]"انا ﷲ وانا الیہ راجعون،اس کا رد بلیغ تو فقیر کی کتاب"الامن والعلی لنا عتی المصطفٰی بدافع البلاء"میں دیکھئے اور یہاں خاص اس لفظ پر بعض حدیثیں سنئے۔اس میں حدیث پوری یوں ہے کہ:امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کی بہن حضرت ام ہانی رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی بالیاں ایك بار ظاہر ہوگئیں اس پر ان سے کہا گیا:
|
ان محمدالا یغنی عنك من اﷲ شیئا۔ |
محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تمھیں نہ بچائیں گے۔ |
وہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور حضور اقد س صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے یہ واقعہ عرض کیا،حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
مابال اقوام یزعمون ان شفاعتی لاتنال اھل بیتی وان شفاعتی تنال حاء وحکم،رواہ الطبرانی [2]فی الکبیر عن ام ھانی رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔ |
کیاحال ہے ان لوگوں کا جو زعم کرتے ہیں کہ میری شفاعت میرے اہل بیت کو نہ پہنچے گی۔بے شك میری شفاعت ضرور قبیلہ حاء وحکم کو بھی شامل ہے۔اس کو روایت کیا ہے طبرانی نے کبیر میں ام ہانی رضی اﷲ تعالی عنہا سے۔ |
(۵)حدیث ۹۵ کے بعد جو ایك روایت بزار سے گزری اس کے قصے میں اس کی نظیر حضرت صفیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع