30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الا تری قولہ تعالٰی(کیا آپ دیکھ نہیں رہے اﷲ تعالٰی کے ارشاد کی طرف۔ت)ولا یتساءلون(اور نہ ایك دوسرے کی بات پوچھے۔ت)مع قولہ عزوجل " وَ اَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴿۲۵﴾ "[1](اور ان میں ایك نے دوسرے کی طرف منہ کیا پوچھتے ہوئے۔ت)
|
روی سعید بن منصور فی سننہ وابناء حمید والمنذر وابی حاتم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔قال انھا مواقف فاما الموقف الذی لاانساب بینھم ولا یتساءلون عندالصعقۃ الاولی لا انساب بینھم فیہا اذا صعقوا فاذا کانت النفخۃ الآخر فاذا ھم قیام یتساءلون [2]۔ |
سعید ابن منصور نے اپنی سنن میں اور پسران حمیدو منذر اور ابی حاتم نے عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے فرمایا: مواقف(منازل حضوری)چند ہیں لیکن وہ موقف جس میں نہ رشتے کام آئیں نہ ان کے ذریعہ سفارش،وہ صعقہ اولی(پہلی کڑک)ہے اس میں رشتے کام نہ آئیں گے جب لوگ گھبرائے ہوئے اٹھیں گے۔اور جب صعقہ ثانیہ ہوگا تو سب کھڑے ہوکر رشتوں سے سوال کریں گے۔ |
(۳)جبکہ احادیث متواترہ سے فضل نسب،فرق احکام ونفع آخرت بلا شبہ ثابت،تو امثال حدیث۔الا لا فضل لعربی علی عجمی ولا لاحمر علی اسود [3](نہ عربی کی فضیلت عجمی پر ہے اور نہ ہی سفید کی کالے پر)وحدیث،انظر فانك لست بخیر من احمر والا سود الا ان تفضلہ بتقوی [4](بے شك تم سفید اور کالے سے بہتر نہیں ہو مگر تم کو صرف تقوٰی سے فضیلت حاصل ہے)میں مثل کریمہ: " اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ "[5](بے شك تم میں اﷲ تعالٰی کے نزدیك مکرم وہ ہے جو پرہیزگار ہے) سلب فضل کلی ہے نہ کہ سلب کلی فضل۔
(۴)حدیث:لا اغنی عنکم من اﷲ شیئا [6](میں تم کو اﷲ سے کچھ بے نیاز
[1] القرآن الکریم ۵۲/ ۲۵
[2] الدرالمنثور بحوالہ سعید بن منصور وابناء حمید والمنذر وابی حاتم تحت آیۃ فلا انساب بینہم ۵/ ۱۵
[3] الترغیب والترھیب الترھیب من احقار المسلم الخ حدیث ۹ مصطفی البابی مصر ۳/ ۶۱۲
[4] الترغیب والترھیب الترھیب من احقار المسلم الخ حدیث ۹ مصطفی البابی مصر ۳/ ۶۱۲
[5] القرآن الکریم ۴۹/ ۱۳
[6] صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان ان مات علی الکفر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۱۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع