30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی تفاوت ہمت کے باعث ہے کہ دنیاودین دونوں کی سلطنتیں یعنی سلطنت ملك وسلطنت علم ہمیشہ شریف ہی اقوام میں رہی دوسری قوموں کا اس میں حصہ معدوم یا کالمعدوم ہے۔عجم میں جو شریف قومیں تھیں اور ہیں خصوصا اہل فارس ___ حدیث ۴۶ کے تتمہ میں ہے:وخیر العجم فارس [1](عجمیوں میں بہتر فارس ہیں)تو مصداق حدیث صحیح:
|
لوکان العلم معلق بالثر یالینالہ رجل من اھل فارس۔اصل الحدیث فی الصحیحین عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولفظ مسلم لو کان الدین عند الثریالذھب بہ رجل من فارس اوقال من ابناء فارس حتی یتناولہ [2] اعنی امام الائمۃ مالك الازمۃ کاشف الغمۃ،سراج الامۃ سید نا امام ابوحنیفۃ و رواہ الطبرانی[3] فی الکبیر عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
علم اگر اثر یا پر(کہ آٹھویں آسمان کے ستاروں سے ہے) آویزاں ہوتا تو ایك مرد فارسی وہاں سے لے آتا۔اصل حدیث بخاری ومسلم میں ابوہریرہ سے ہے اور مسلم کے الفاظ یہ ہیں اگر دین ثریا پر ہوتا تب بھی فارس کاایك شخص اس کو حاصل کرلیتا۔یا فرمایا:فارس کی اولاد میں سے اس کو حاصل کرلیتا۔وہ شخص امام الائمہ،مالك الازمہ،کاشف الغمہ،سراج الامۃ سیدنا امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہیں اور ا س کو طبرانی نے کبیر میں ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ |
سیدناامام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا فارسی ہونا کیا مضر،خصوصا اولاد کسرٰی کہ فارس کی اعلٰی نسل شمار ہوتی ہے جو ہزار ہا سال صاحب تاج وتخت رہی اور ان کی مجوسیت شریف قوم گنے جانے کے منافی نہیں،جیسے قریش کہ زمانہ جاہلیت میں بت پرست تھے اور بلا شبہ وہ تمام جہان کی اقوام سے افضل قوم ہے۔انھیں فارسیوں میں امام بخاری بھی ہیں(رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ) یونہی خراسانی کہ وہ بھی فارسی ہیں۔بلکہ تیسیر میں زیر حدیث:
|
لوکان الایمان عند الثریا لتنا ولہ رجال |
اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہو تا تو اس کے علاقے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع