30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تبیین الحقائق میں اکثر صورمذکورہ اور فساد طاری ومقارن کا تفرقہ مسطورہ بیان کر کے فرمایا:
|
وعلی ھذا الاصل یدور الفرق [1]۔ |
اور اسی اصل پر فرق گھومتا ہے(یعنی اس کا دارومدار ہے)۔ (ت) |
تنویر الابصار میں ہے:
|
المعتبر اکبر رأی المبتلی بہ [2]۔ |
جو کوئی جس حادثہ میں مبتلا ہے اس کی اپنی غالب رائے معتبر سمجھی جاتی ہے۔(ت) |
فتح القدیر وبحرالرائق وردالمحتارمیں ہے:
|
وھو لایلزم غیرہ بل یختلف باختلاف مایقع فی قلب کل [3]۔ |
اور وہ دوسرے پر لازم نہیں بلکہ ہر شخص کے دل میں جو کچھ واقع ہوتا ہے(طبیعتوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے اس میں اختلاف ہوا کرتاہے۔(ت) |
ان عبارات سے کل مقاصد واصول کہ فقیر نے ذکر کئے واضح ہوگئے،پس صورت مستفسرہ میں اگر ہندہ ان لوگوں کا بیان سچا جانتی ہے اس کا قلب ان کے صدق پر جمتا ہے تو اسے نکاح ثانی روا ہے ناکح دوم سے اگر ہندہ نے کہا کہ اس کا شوہر مرتد ہوگیا یا ان لوگوں نے بیان کیا اور ہندہ منکر نہیں اور اس کے قلب میں ہندہ یا ان مخبروں کا صدق واقع ہو تو اسے بھی ہندہ سے نکاح روا۔اور اگر ہندہ نے کہا میں نے سنا کہ وہ مرتد ہوگیا تو صرف اس قدر پر اسے روا نہیں کہ ہندہ سے نکاح پر اقدام کرے۔یوہیں اگر ہندہ یا ان مخبروں نے اسے ارتداد زید کی خبر دی اور اس کا دل ان کے صدق پر نہیں جمتا تو اسے ہندہ سے نکاح روا نہیں اگر چہ ہندہ کے نزدیك وہ لوگ صادق ہوں واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۵: ازموضع سرنیا مسئولہ امیر علی صاحب ۱۱ جمادی الاولٰی ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نکاح حرام سے پیدا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع