30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مخبر لاتعتمد علی خبرہ کذا فی المحیط،واذا شھد عد لان للمرأۃ ان زوجھا طلقھا ثلثا وھو یجحد ثم غابا اوماتا قبل الشھادۃ عند القاضی لم یسع المرأۃ ان تقیم معہ وان تدعہ ان یقربھا و لایسعھا ان تتزوج کذا فی المحیط السرخسی۔واذا شھد شاھد ان عند المرأۃ بالطلاق فان کان الزوج غائبا وسعھا ان تعتدوتتزوج بزوج اٰخر وان کان حاضرا لیس لھا ذٰلك ولکن لیس لھا ان تمکن من زوجھا کذا فی المحیط ولو ان امرأۃ قالت لرجل ان زوجی طلقنی ثلثا انقضت عدتی فان کانت عدلۃ وسعہ ان یتزوجھا وان کانت فاسقۃ تحری وعمل بما وقع تحریہ |
آدمی ہو تو غور و خوض کرے۔اور انتظار کرے پھرجب اسے کسی عادل اور معتبر مسلمان کی طرف سے خاوند کے وفات پاجانے کی اطلاع میسر ہو جائے تو اس کی خبر پر اعتماد کیا جائے مگروہ بھی اس صورت میں جبکہ وہ یوں اطلاع دے کہ میں نے خود اس کے شوہر کو مرا ہوا دیکھا ہے یا اس کی نماز جنازہ میں شرکت کی ہے لیکن اگر وہ اس طرح اطلاع نہیں دیتا بلکہ یوں کہتاہے کہ مجھے بتانے والے نے بتایا تو اس صورت میں اس کی خبر ناقابل اعتماد خیال کی جائے گی۔محیط میں یوں ہی مذکور ہے۔اور اگر دو عادل شخص عورت کے روبرو یہ گواہی دیں کہ اس کے شوہر نے اسے تین طلاق دے دی ہیں لیکن شوہر انکاری ہو اور قاضی کے روبرو گواہ شہادت دینے سے پہلے ہی غائب ہوجائیں یا وفات پاجائیں تو عورت کے لئے اس مرد کے ہاں ٹھہرنے کی کوئی گنجائش نہیں وہ اس سے علیحدگی اختیار کرلے تاکہ مرد اس سے قربت نہ کرنے پائے۔ لیکن اس عورت کے لئے یہ گنجائش نہیں کہ وہ کہیں اور نکاح کرلے محیط میں امام سرخسی سے اسی طرح مذکور ہے۔ جب دو گواہ عورت کے روبرو طلاق کی گواہی دیں اگر مرد غیر حاضر ہوتو عورت کے لئے گنجائش ہے کہ عدت سے گزرے اور کسی اور مرد سے نکاح کرلے لیکن اگر شوہر موجود ہو تو پھر اسے یہ اجازت نہیں لیکن عورت کو یہ اجازت حاصل ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع