30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المرأۃ ان زوجھا قد ارتد ذکر فی الاستحسان من الاصل ان لھا ان تتزوج بزوج اٰخری وسوی بین الرجل والمرأۃ وذکر فی السیر لیس لہا ان تتزوج بزوج اخر حتی یشھد عندھا رجلان اورجل وامرأتان وذکر شمس الائمۃ السرخسی رحمہ اﷲ تعالٰی الصحیح ان لھا ان تتزوج لان المقصود من ھذا الخبر وقوع الفرقۃ بین الزوجین وفی ھذا لا فرق بین ردۃ المرأۃ والزوج وکذا لو کانت المرأۃ صغیرۃ فاخبرہ انسان انھا ارتضعت من امہ واختہ صح ھذا الخبر ولوا خبرہ انسان انہ تزوجھا وھی مرتدۃ یوم تزوجھا اوکانت اختہ من الرضاعۃ و |
مگر اس کی غالب رائے میں وہ سچا ہو تو پھر بھی وہی حکم لاگو ہوگا اوراگر وہ اس کی غالب رائے میں جھوٹا ہو تو اس صورت میں یہ شخص تین عورتوں سے زائد کے ساتھ بیك وقت نکاح نہیں کرسکتا اسی طرح اگر بتانے والے نے کسی عورت کو یہ اطلاع دی کہ اس کا شوہر مرتد ہوگیا ہے(یعنی دین اسلام سے پھر گیا ہے)تو اصل کی بحث استحسان میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس عورت کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے،ایسی صورت حال میں مرد اورعورت کے درمیان مساوات رکھی گئی ہے اور"سیر"میں مذکور ہے کہ وہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح اس وقت تك نہیں کرسکتی جب تك کہ اس کے پاس دو مرد یا ایك مرد اوردو عورتیں بطور گواہ برائے توثیق موجود نہ ہوں،شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ صحیح یہ ہے کہ عورت مذکورہ اگر دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے کیونکہ اس خبر سے مقصود میاں اور بیوی دونوں میں وقوع فرقت (جدائی)ہے اوراس صورت میں مرد عورت دونوں میں سے کسی ایك کے مرتد ہونے میں کوئی فرق نہیں۔یونہی اگر عورت چھوٹی ہو اور خاوند کو کوئی آدمی یہ بتائے کہ اس بیوی نے تیری والدہ یا بہن کا دودھ پی رکھا ہے تو اس خبر کو صحیح اوردرست تسلیم کیا جائے گا اور اگر مردکو کسی نے یہ اطلاع دی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع