30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واقعی بے اختیار ی ہے تو مواخذہ نہیں۔ذکر اس طرح ہو کہ نہ ریا ہو نہ کسی کو ایذا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۱: از اجمیر شریف ڈاکخانہ گریج علاقہ نمبر ۳۰ مرسلہ کمال محمد ۱۴ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
بددعا کرنا گناہگاروں کے واسطے جائز ہے یا حرام؟
الجواب:
سنی مسلمان اگر کسی پر ظالم نہیں تو اس کے لئے بددعا نہ چاہئے بلکہ دعائے ہدایت کی جائے کہ جو گناہ کرتاہے چھوڑ دے۔اور اگر ظالم ہے اور مسلمانوں کو اس سے ایذا ہے تو اس پربد دعا میں حرج نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ذکر جلی کرنا جائز ہے یانہیں اور آواز کس قدر بلند کرسکتاہے کوئی حد معین ہے یانہیں؟ حلقہ باندھ کر ذکر کرتے وقت ذکر کرتے کرتے کھڑے ہوجانا اور سینہ پر ہاتھ مارنا ایك دوسرے پر گر پڑنا،لپٹ جانا،رونا،زاری کی دھوم مچانا کیسا ہے؟
الجواب:
ذکر جلی جائز ہے۔حدمعین یہ ہے کہ اتنی آواز نہ ہو جس سے اپنے آقا کو ایذا ہو یا کسی نمازی یا مریض یا سوتے کو تکلیف پہنچے اور ذکر کرتے کرتے کھڑے ہو جانا وغیرہا افعال مذکورہ اگر بحالت وجد صحیح ہیں تو کوئی حرج نہیں اور معاذاﷲ ریا کے لئے بناوٹ ہیں تو حرام وما بینھما وسط لا یذکر للعوام(اور ان دونوں کے درمیان کچھ درمیانی درجات ہیں جو عوام کے لئے ذکر نہیں کئے جاسکتے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
____________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع