30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۴۸: مسئولہ عبدالحمید ساکن لوشدی تدی پاڑہ ضلع پترہ ڈاکخانہ سیف اﷲ کندی بروز دو شنبہ تاریخ ۱۹ رجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین رحمہم اﷲ تعالٰی سوالات مرقومہ ذیل اول جہر مفرط کے ساتھ ذکر کرنا شرعا جائز ہے یانہیں؟ اور جہر مفرط کا حد کیا ہے؟ اور اگر چند لوگ جمع ہو کر ایسے زور سے ذکر کریں کہ نماز وتلاوت ونیند وغیرہ میں خلل واقع ہو جائے تو اس طرح کاذکر کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟ اور اس دیار میں بعض لوگ اس طرح ذکر کیا کرتے ہیں کہ ان کے ذکرمیں اکثر لا الہ الا اُل ھملق کا تلفظ سنا جاتاہے یہ بحسب شرع روا ہے یانہیں اور اجتماع ہو کر ذکر کرنا کیساہے؟
الجواب:
اجتماع ہوکر ذکر حسن ہے سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ رب عزوجل فرماتاہے:
|
وان ذکرنی فی ملا ذکرتہ فی ملأ خیر منہ [1]۔ |
اگر کسی شخص نے مجھے کسی مجلس میں یاد کیا(یعنی میرا ذکر کیا)تو میں اس سے بہتر اور اعلٰی مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں (ت) |
ذکر بجہر صحیح یہ ہے کہ جائز ہے۔نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اذا مررتم بریاض الجنۃ فارتعوا قالوا وماریاض الجنۃ،قال حلق الذکر [2]۔ |
(لوگو!)جب تم جنت کے باغیچوں سے گزرنے لگو تو اچھی طرح کھاپی لیا کرو۔لوگوں نے عرض کی(اے اﷲ تعالٰی کے حبیب علیہ الصلوٰۃ والسلام!)جنت کے باغیچے کیا ہیں؟ ارشادفرمایا:ذکر کے حلقے۔(ت) |
مگر ایسا ہو جس سے کسی کی نماز یا تلاوت یا نیند میں خلل آئے یا مریض کو ایذا پہنچے ناجائز ہے اور یہ بھی ممنوع ہے کہ طاقت سے زیادہ جہر کرے جس سے اپنے دل ودماغ کو صدمہ پہنچے اسی کا نام جہر مفرط ہے اور وہ الفاظ بے معنی کہ سائل نے لکھے اگر وہ کہتے ہی یہ ہیں تو جہل ہے اوراگر کہتے صحیح الفاظ ہیں اور جہر کے غل سے سننے میں ایسا آتا ہے تو الزام نہیں۔فقط۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع