30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال اﷲ تعالٰی " وَ اذْکُرُوا اللہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۱۰﴾ "[1]۔ وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اکثرواذکر اﷲ حتی یقولوا انہ مجنون [2]۔ |
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا)اﷲ کا ذکر کثرت سے کرو تاکہ تم فلاح پاجاؤ۔(ت) (رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا)اﷲ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ کہنے لگیں یہ تو دیوانہ ہے۔ |
جس چیز کی تکثیر شارع کو مطلوب ہو اس کی تقلیل نہ چاہے گا مگر وہ جسے شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ضد ہے۔رہا خوف ریا وہ متعلق بہ قلب ہے ریا سے اگر نماز ہو تو وہ بھی ناجائز ہے۔مگر عقل ودین والا ریا سے منع کرے گا نماز سے نہ روکے گا،حضرت سیدی شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی قدس اﷲ سرہ کے حضور کسی طالب خدا نے عرضی لکھی کہ:
|
یاسیدی ان عملت داخلنی الریا وان ترکت اخلات الٰی ارض البطالۃ۔ |
اے میرے سردار! میں عمل کرتاہوں جب تو ریا آجاتاہے اور چھوڑ دیتاہوں تو بیکاری کی زمین پر گرا پڑتا ہوں۔ |
جواب ارشادفرمایا:
|
اعمل وتب الی اﷲ [3]۔ |
کام کئے جاؤ اور ریا سے اﷲ کی طرف تو بہ کرو۔ |
ہاں دوسرے مسلمانوں کی ایذا نہ ہونے کا لحاظ لازم ہے سو توں کی نیند میں خلل نہ ہو،نمازیوں کی نماز میں تشویش نہ ہو،کما نص علیہ فی البحرالرائق وردالمحتار وغیرھا(جیسا کہ بحرالرائق اور ردالمحتار میں اس پر نص ہے۔ت)جب وقت لوگوں کی نیند کاہو یا کچھ نماز پڑھ رہے ہوں تو ذکر کرو جس طرح مگر نہ اتنی آواز سے کہ ان کو ایذا ہو اور جب اس سے خالی ہو تو مختار مطلق ہو کرو اور اتنی کثرت سے کرو کہ منافق مجنون کہیں اوروہابی بدعت،واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع