30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال الفقیہ ابو جعفر الذی عندنا انہ لاینبغی ان یمنع العامۃ من ذٰلك لقلۃ رغبتھم الی الخیرات وبہ ناخذ یعنی انھم اذا منعوا عن الجھربہ لایفعلونہ سرافینقطعون عن الخیر بخلاف العالم الذی یعلم ان الاسرار ھو الافضل [1]۔ |
فقیہ ابوجعفر نے فرمایا ہمارے نزدیك مناسب نہیں کہ عوام کو تکبیر سے روك دیا جائے اس لئے کہ بھلائی کے کاموں میں وہ کم رغبت رکھتے ہیں لہذا ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں یعنی مراد یہ ہے کہ جب وہ ذکر بالجہر سے روك دئے گئے تو وہ آہستہ ذکر بھی نہ کریں گے بخلاف اس عالم کے جو یہ جانتا ہے کہ آہستہ ذکر کرنا افضل ہے۔(ت) |
رحمانیہ میں ذخیرہ سے ہے:
|
بہ اخذ الفقیہ ابواللیث [2]۔ |
فقیہ ابواللیث نے اسی کو اختیار کیا ہے۔(ت) |
ان عبارات علماء سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جہر میں کراہت بھی ہے تو نہ اس قدر کہ خوبی ذکر کی مقاومت کرسکے ولہذا جب منع جہر میں ترك ذکر کا مظنہ ہو خوبی ذکر کو ترجیح دیں گے اور کراہت جہر کا لحاظ نہ کریں گے۔انصافا یہ شان صرف کراہت تنزیہہ میں ہوسکتی ہے جس کا حاصل خلاف اولٰی ہے نہ کہ ممنوع وناجائز۔
|
کیف وقد علم ونصوا علیہ ان ترك ذرۃ مما نہی اﷲ تعالٰی عنہ افضل من عبادۃ الثقلین [3]۔ |
حالانکہ یہ معلوم ہوگیا ہے اور اہل علم نے اس کی تصریح فرمادی ہے کہ کسی معمولی سی چیز کو چھوڑدینا کہ جس سے اﷲ تعالٰی نے منع فرمایا۔جن و انس کی عبادت سے افضل ہے۔(ت) |
بالجملہ اس سے منع کرنا ہی خلاف مصالح شرعیہ ہے فان افسادہ اکثر من اصلاحہ(اس لئے کہ اس کا بگاڑ اس کی اصلاح سے زیادہ ہے۔ت)نہ کہ معاذاﷲ وہ جبروتی احکام کفر وشرك و ضلال وحرام کہ نجدیت وجہالت فاضحہ ہیں حکم بحرمت قطعیہ کا بھی محل نہیں چہ جائے ضلالت و کفر،والعیاذ باﷲ تعالٰی،بفرض باطل اگر ذکر مذکور بالا تفاق مکروہ ہی ہو،تا ہم ایسے احکام باطلہ کی شناعت اس سے ہزا ردرجہ سخت وبدتر تھی یہ دقائق تدلیس وتلبیس ابلیس لعین سے ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع