30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۴۲: از بمبئی مرسلہ مولوی محمد عمر الدین صاحب مع رسالہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ہمارے اس ملك سندھ اور نیز بمبئی میں قدیم الایام سے یہ مروج ہے کہ جنازہ کے آگے کلمہ طیبہ لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کا ذکر کرتے ہوئے چند آدمی میت کو قبرستان لے جاتے ہیں اور قبرستان پہنچ کر اس میت کو بخش دیتے ہیں او جب واپس لوٹتے ہیں تو اس طرح کلمہ طیبہ پڑھتے آتے ہیں اور اس کا ثواب میت کے مکان پر پہنچ کر اس کو بخش دیتے ہیں آیا اس کلمہ کا ذکر میت کے آگے اور واپسی کے وقت جہرا پڑھنا جائز ہے یانہیں اور میت کو اس سے فائدہ ہوتاہے یا نہیں؟ اور جو شخص اسے کفر وشرك یاحرام قطعی کہے اور مسلمانوں کو اس کے باعث مستحق لعن وطعنہ جانے وہ خاطی ہے یانہیں؟ بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
تحریر فقیر بررسالہ مذکور
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
اللھم لك الحمد(اے اللہ! تیرے ہی لئے تعریف ہے۔ت)فی الواقع لوگوں کو ذکر مذکور سے منع نہ کیا جائے،مسئلہ جہر مختلف فیہا ہے اور اطلاقات قرآن عظیم اور شادات احادیث کثیر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع