30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعا کی درخواست کی۔امام نے دعا فرمائی اور حاضرین نے بکثرت آمین کہی،دوسرا جمعہ ہوا کسی بی بی نے ایك رقعہ مجلس میں ڈال دیا اس میں لکھا تھا کہ میں اپنے گھر پلٹ کر گئی اورشب کو ابوعبداﷲ حاکم کے لئے دعا میں کوشش کی میں خواب میں جمال جہاں آرائے حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئی گویا مجھے ارشادفرماتے ہیں:قولی لابی عبد اﷲ یوسع الماء علی المسلمین(ابوعبداﷲ سے کہہ مسلمانوں پر پانی کی وسعت کرے،امام بیہقی فرماتے ہیں وہ رقعہ اپنے استاد حاکم کے پاس لے گیا انھوں نے انے دروازے پر ایك سقایہ بنانے کاحکم دیا۔جب بن چکا اس میں پانی بھروادیا اور برف ڈالی اور لوگوں نے پینا شروع کیا ایك ہفتہ نہ گزرا تھا کہ شفاء ظاہر ہوئی پھوڑے جاتے رہے چہرہ اس اچھے سے اچھے حال پر ہوگیا جیسا کبھی نہ تھا۔اس کے بعد برسوں زندہ رہے[1]۔
بالجملہ مسلمانوں کو چاہئے اس پاك مبارك عمل میں چند باتوں کا لحاظ واجب جانیں کہ ان منافع جلیلہ دنیا وآخرت سے بہرہ مند ہوں:
(۱)تصحیح نیت کہ آدمی کی جیسی نیت ہوتی ہے ویساہی پھل جاتاہے نیك کام کیا اور نیت بری تو وہ کچھ کام نہیں انما لاعمال بالنیات [2](اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ت)تو لازم کہ ریا یا ناموری وغیرہ اغراض فاسدہ کو اصلا دخل نہ دیں ورنہ نفع درکنار نقصان کے سزاوار ہوں گے۔والعیاذ باﷲ تعالٰی
(۲)صرف اپنے سر سے بلا ٹالنے کی نیت نہ کریں کہ جس نیك کام میں چند طرح کے اچھے مقاصد ہوں اور آدمی ان میں ایك ہی کی نیت کرے تو اسی لائق ثمرہ کا مستحق ہوگا انما لکل امرئ مانوی [3](ہر شخص کو وہی حاصل ہوگا جس کی وہ نیت کرے۔ت) جب کام کچھ بڑھتا نہیں صرف نیت کرلینے میں ایك نیك کام کے دس ہوجاتے ہیں تو ایك ہی نیت نہ کرنا کیسی حماقت اور بلاوجہ اپنا نقصان ہے۔ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ اس عمل میں کتنی نیکیوں کی نیت ہوسکتی ہے ان سب کا قصد کریں کہ سب کے منافع پائیں بلکہ حقیقتا اس عمل سے بلا ٹلنا بھی انہی نیتوں کا پھل ہے جیسا کہ ہم نے احادیث سے روشن کردیا تو بغیر ان نیتوں اعنی صدقہ فقراء وخدمت صلحا وصلہ رحم واحسان جار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع