30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
|
الحمد ﷲ الذی وضع البرکۃ فی جماعۃ الاخوان وقطع الھلکۃ بتواصل الاحباء والجیران و الصلٰوۃ والسلام علی صاحب الشفاعۃ مجیب الدعوۃ ومحب الجماعۃ دافع البلاد والوباء والقحط و المجاعۃ وعلی الہ وصحبہ و جماعۃ المسلمین وعلینا فیھم یاارحم الراحمین اٰمین اٰمین اٰمین یاربنا اٰمین۔ |
تما م تعریفیں اس ذات کے لئے جس نے بھائیوں کے اجتماع میں برکت فرمائی اور اہل محبت اور پڑوسیوں کی ملاقات وصلہ میں مصیبت کو قطع فرمایا اور صلٰوۃ وسلام مالك شفاعت، دعوت قبول،جماعت سے محبت،مصیبت و وبلاء اور بھوك اور قحط کو دفع کرنے والی ذات پر اور ان کی آل واصحاب اور مسلمانوں کی جماعت اور ان کے ساتھ ہم پر یا ارحم الراحمین، آمین آمین اے ہمارے رب آمین! |
فعل مذکور بقصہ مسطور اور اہل دعوت کو وہ کھانا کھانا شرعا جائز و روا جس کی ممانعت شرع مطہر میں اصلا نہیں۔قال اﷲ تعالٰی:
|
" لَیۡسَ عَلَیۡکُمْ جُنَاحٌ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا جَمِیۡعًا اَوْ اَشْتَاتًا ؕ"[1] |
تم پر کچھ گناہ نہیں کہ کھاؤ مل کر یا الگ الگ۔ |
تو بے منع شرع ارتکاب ممانعت جہالت وجرأت۔
وانا اقول:وباﷲ التوفیق(اور میں کہتاہوں اورتوفیق اﷲ سے ہے۔ت)نظر کیجئے تو یہ عمل چند دواؤں کا نسخہ جامعہ ہے کہ اس سے مساکین وفقراء بھی کھائیں گے،علماء وصلحاء بھی عزیز ورشتہ دار بھی قریب واہل جوار بھی تو اس میں بعد وابواب جنت اٹھ خوبیاں ہیں:
(۱)فضیلت صدقہ (۲)خدمت صلحاء (۳)صلہ رحم (۴)مواساۃ جار
(۵)سلوك نیك سے مسلمانوں خصوصا غرباء کا دل خوش کرنا (۶)ان کی مرغوب چیزیں ان کے لئے مہیا کرنا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع