30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فتح القدیر [1]وغیرہ۔ |
جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ میں مذکور ہے۔(ت) |
لہذا حکم وہی ہے کہ ایسی کھچڑی مطلقًا حرام ہے اور اس کی اعانت ہر طرح ناجائز،معہذا اگر فرض کرلیں کہ صورت اولٰی واقع ہو تو اس میں اہلسنت کو ان بے دینوں کی مجالست مصاحبت توقیر سے چارہ نہ ہوگا اوریہ خود حرام ہے۔قال اﷲ تعالٰی:
|
" وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾"[2] |
اگر تمھیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔(ت) |
اور حدیث میں ہے:
|
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام [3]۔ |
جس نے کسی بدعتی آدمی کی تعظیم کی اس نے بلا شبہہ اسلام کے گرانے(مٹانے)پر امداد کی۔(ت) |
رہی زکوٰۃ اگر بطور چندہ دی گئی اور چندہ میں خلط کرلی گئی اور عام مصارف میں بلالحاظ تملیك فقیر اٹھتی رہی جب تو ہر گز ادا نہ ہوگی اگرچہ یتیم خانہ خاص اہلسنت کا ہو۔
|
لماصرحوا بہ ان رکنھا التملیك فلا تجوز فی بناء مسجد اوتکفین میت وغیر ذٰلك وصرحوا ان الخلط استھلك فلا تتادی بہ کما فی الفتاوٰی العالمگیریۃ وغیرھا۔ |
اس لئے کہ ائمہ فقہ نے اس مسئلہ کی تصریح فرمائی کہ زکوٰۃ کارکن تملیك ہے(یعنی زکوٰۃ لینے والے کو مال زکوٰۃ کا مالك بنا دینا)لہذا تعمیر مسجد اور تکفین میت اور اس نوع کی دوسری صورتوں میں زکوٰۃ جائز نہ ہوگی(اس لئے کہ ان میں تملیك نہیں پائی جاتی)اور یہ بھی انھوں نے تصریح فرمائی کہ ایك مال کو دوسرے مال میں خلط کرنا یعنی ملانا اسے نیست ونابود کردینا ہے لہذاس سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی،جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری وغیر میں مزکور ہے۔(ت) |
اور اگر بطور زکوٰۃ دی جائے اور جدا رکھی جائے اور یتیموں فقیروں کے قبضہ میں دے کہ تملیك
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع