30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۳۷: از سرونج مسئولہ جناب محمد عبدالرشید خان صاحب ۱۹ محرم الحرام ۱۳۲۱ھ
زید کے پاس روپیہ کچھ روپیہ تو جو حلال کا ہے اور کچھ ناجائز کا روپیہ اکٹھا جمع ہے زید یہ بات بھول گیا ہے کہ اس روپے میں جائز طور کا کتنا ہے اور ناجائز طور کا کتنا روپیہ ہے۔اب اگر زید اس روپے سے خیرات کرنا چاہئے تو کس طور سےت کرے؟
الجواب:
تحری کرے زیادہ سے زیادہ تك ناجائز روپیہ اسے حاصل مالکوں یا وارثوں کو واپس دے اگر ان کا پتا نہ ہو تو اس قدر کل تصدق کردے باقی جتنا روپیہ اس کا رہ گیا ہے اس کا یہ مختار ہے تصدق وغیرہ جس صرف میں چاہے اٹھائے،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۸:
کراچی میں مسلمانوں کا یك یتیم خانہ کھلنے والا ہے جس میں وہابی،نیچری،رافضی،لامذہب سب جمع ہیں،سنی مسلمانوں کو اس یتیم خانہ میں شامل ہونا چاہئے یانہیں؟ اوراگر فی سبیل الله زکوٰۃ خیرات کی مد سے اس یتیم خانے مین چندہ دیا تو زکوٰۃ ادا ہوئی یا نہیں؟ اور وہ چندہ باعث ثواب ہوا یاموجب عذاب؟ بینوا توجروا
الجواب:
اس میں احتمالا دو صورتیں ہیں ایك یہ کہ یتیموں وتربیت کا تمام اتنظام صرف اہلسنت کے ہاتھوں میں رہے کسی بدمذہب کا اس میں دخل نہ ہو،نہ ان کی صحبت بچوں کو رہے کہ وہ انھیں اغوا کرسکیں صرف بالائی باتوں میں ان کی شرکت ہو،دوسرے یہ کہ ان امور میں بھی انھیں مداخلت دی جائے یا کم از کم ان کی صحبت بد رہے جس سے بچوں کی گمراہی مظنہ ہو،صورت ثانیہ تو مطلقًا قطعی حرام وبدخواہی اسلام ہے اور اس میں چندہ دینا موجب عذاب وآثار،اور صورت اولٰی شاید محض ایك خیالی ہو واقع کبھی نہ ہو کہ جب وہ برابر کے شریك ہیں ہر کام میں برابر کی شرکت چاہیں گے کیا وجہ ہے کہ وہ نرے غلام بن کررہنے پر راضی ہوں اور بغرض باطل اگر ایسا ہو بھی تو ان کی صحبت بد سے کیونکر مفر اور علماء تصریح فرماتے ہیں:
|
ان الاحکام تبنی علی الغالب ولایعتبر النادر فضلا عن الموھوم کما فی |
احکام،غالب حالات پر مبنی ہواکرتے ہیں لہذا کسی نادر صورت کا اعتبار نہیں کیا جاتا چہ جائیکہ کسی رسمی اور فرضی صورت کا اعتبار ہو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع