30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لَایَجِدُوۡنَ اِلَّا جُہۡدَہُمْ"[1] |
لگاتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی نشانہ طعن بنانے ہیں جو اپنی محنت وکوشش سے جو کچھ حاصل کرپاتے ہیں راہ خدا میں خرچ کردیتے ہیں۔(ت) |
کانازل ہونا،ایك بار یوہیں صدقات کا چندہ ہونا اس کا انبار ہوجانا،ایك صحابی کا صرف ایك خوشہ لانا حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا اسے سب سے اوپر رکھنا وغیرہ وغیرہ وقائع کثیرہ صحاح وغیرہا کتب احادیث میں مذکور ومشہور ہے۔والله سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۴ تا ۳۶: ۲۱ ربیع الاول ۱۳۲۳ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بروز پنچشنبہ فاتحہ اور کھانے کا ثواب میت کی روح کو بخش کو جو کچھ ممکن ہو سکے مساکینوں کوبھی دے دیا جائے اس کی نسبت کیا حکم ہے؟
(۲)میت کے سیم میں چنوں پر کلمہ شریف پڑھنا اور پھر ان کو اور بتاشوں کو تقسیم کرنا چاہئے یانہیں؟
(۳)میت کے سیم کے چنے وبتاشے سوائے مساکین کے دوسرے کو لینا اور کھانا چاہئے یانہیں؟ بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)جائز اورمستحسن ہے اور باعث اجروثواب ہے اس کے لئے بھی اور اس میت مسلمان کے لئے بھی،اور رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ [2]۔ |
جوکوئی تم میں سے اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکے تو اسے نفع پہنچائے(ت) |
(۲و ۳)جائز ہے مگر بہتر یہ ہے کہ صرف مساکین کو دئے جائیں اغنیاء کا نہ لینا بہتر ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع