30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرعًا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اگر انھیں ممنوعات شرعیہ سے اپنے یہاں باز رکھا جائے اور بغیر کسی امر ممنوع شرعی کی اجرت کے احسانا دیا جائے تو جائز ہے بلکہ اگر اس نیت سے دیں کہ یہ مسلمان اس مال حلال کو پاکر اکل حلال سے بہرہ مند ہوں اور شاید اس کی برکت سے الله تعالٰی ان کو تو بہ نصیب فرمائے تو محمود وحسن وباعث اجر ہے۔صحیح بخاری وصحیح مسلم کی حدیث:
|
اللھم لك الحمد علی زانیۃ اللھم لك الحمد علی سارق [1]۔ |
یا اللہ! تیرے لئے ہی تعریف وثنا ہے کہ مال توبدکار کے ہاتھ میں گیا،اے اللہ! تیرے ہی لئے حمد وستائش کہ مال تو چور کے ہاتھ لگ گیا۔(ت) |
اس پر شاہد عدل ہے اس صورت میں دینے والے کو دینا اور لینے والے کو لینا حلال وطیب ہے،عالمگیری وغیرہ میں اس کی تصریح ہے اور اگر یہ صورت ہے کہ نہ دے گا تو اسے مطعون کرتے پھرینگے اس کا مضحکہ اڑائیں گے جیساکہ ان کی عادت سے معروف ومشہور ہے تو اس صورت میں بھی اپنے تحفظ کے لئے دینا جائز وحلال ہے اگر چہ انھیں لینا حرام ہے اس کے جواز پر وہ حدیث شاہد کہ ایك شاعر نے بارگاہ رسالت میں آکر سوال کیا حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے بلال رضی الله تعالٰی عنہ کو ارشاد فرمایا:
|
اقطع عنی لسانہ [2]۔ |
میری طرف سے اس کی زبان کاٹ دے۔ |
درمختار وغیرہا میں بھی اس کا جواز مصرح ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۲: پختنی حلوہ شب برات کی کیا تخصیص ہے؟
الجواب:
یہ تخصیص عرفی ہے لازم شرعی نہیں۔ہاں اگر کوئی جاہل اسے شرعا لازم جانے کہ بے حلوے کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع