30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
(۱)شخص مذکور اگر چہ کیسا ہی فاسق فاجر تھا اگر چہ بے توبہ مراجبکہ مسلمان تھا اس کے جنازہ کی نماز لازم تھی نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
الصلٰوۃ واجبۃ علی کل مسلم براکان او فاجرا و ان ھو عمل الکبائر [1]۔ |
ہر مسلمان خواہ نیك ہو یا بد،اس کی نماز جنازہ پڑھنی واجب ہے اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو(ت) |
درمختار میں ہے:
|
وھی فرض علی کل مسلم مات خلااربعۃ [2] الخ ولیس ھذا منھم واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جب کوئی مسلمان مر جائے تو اس پر نماز پڑھنی فرض (کفایہ) ہے سوائے چار آدمیوں کے کہ ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور یہ ان میں سے نہیں،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
(۲)جو مال اس نے بعینہٖ چوری یاجوئے سے حاصل کیا اس پر ختم وفاتحہ پڑھنا حرام ہے اور اس کا کھانا حرام ہے مگر اسے جس سے وہ مال لیا گیا یا وہ معلوم نہ ہو تو فقیر کو بحیثیت مال لاوارثی نہ بحیثیت ایصال ثواب سمجھ کر کھایا وہ قابل امامت نہیں جب تك تائب نہ ہو بلکہ اسے جدید اسلام کا حکم ہے۔عالمگیریہ میں ہے:
|
لوتصدق علی فقیر بشیئ من مال الحرام یرجوا الثواب یکفر ولو علم الفقیر بذٰلك فد عالہ وامن المعطی فقد کفر کذا فی المحیط [3]۔ |
اگر کسی محتاج پر حرام مال میں سے کچھ خیرات کرے اور ثواب کی امید رکھے تو کافر ہوجائے گا،اگر محتاج کو اس مال کے حرام ہونے کا علم ہو پھر اسے مال دینے کے لئے کوئی بلائے اور وہ اس کے لئے دعا کرے اور دینے والا آمین کہے تو دونوں کافر ہوئے محیط میں یہی مذکور ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع