30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ابوداؤد اعمی رافضی سخت مجروح متروك ہے امام ابن معین نے اسے کاذب کہا۔ |
۲۷۷ |
بخاری ومسلم کا علم محیط نہ تھا۔ |
۲۹۶ |
|
علماء محدثین یحیٰی بن مسلم طائفی کا حافظہ برابتاتے ہیں۔ |
۲۷۹ |
ابراہیم بن بکر راویوں میں چھ ہیں اور سوائے ابراہیم بن بکر شیبانی کے کسی میں ضعف نہیں۔ |
۲۹۸ |
|
حنظلہ بن عبدالله سدوسی محدثین کے نزدیك ضعیف ہے۔ |
۲۸۷ |
ابن لہیعہ راوی ضعیف ہے۔ |
۳۳۴ |
|
وہ صحیح الحواس نہیں رہا تھا یحیٰی بن سعید قطان)۔ |
۲۸۷ |
امام عینی علامہ قہستانی سے اوثق ہیں۔ |
۴۶۰ |
|
وہ ضعیف منکر الحدیث ہے(امام احمد) |
۲۸۷ |
جبرون متہم ہے۔ |
۴۹۷ |
|
وہ تعجب خیز روایات لاتاہے۔ (امام احمد) |
۲۸۷ |
امام اجل محمد بن عبادتابعی ہیں اور ام المومنین صدیقہ،عبدالله بن عمر،عبدالله بن عباس،ابوہریرہ اور جابر بن عبدالله کے شاگرد ہیں رضی الله تعالٰی عنہم۔ |
۵۲۳ |
|
وہ کوئی چیز نہ تھا آخر عمر میں متغیر ہوگیا تھا۔ (یحیٰی بن معین) |
۲۸۸ |
امام ابن جریح تابعین سے ہیں امام جعفر صادق کے شاگرد اور امام شافعی کے دادا استاد ہیں۔ |
۵۲۳ |
|
وہ قوی نہیں۔ (امام نسائی) |
۲۸۸ |
امام عطاء بن ابی رباح امام ابوحنیفہ کے استاذ ہیں۔ |
۵۲۹ |
|
امام محدث ابوالخطاب ابن دحیہ بقول شاہ ولی الله دہلوی حافظ حدیث متقن ہیں۔ |
۲۸۸ |
سلمہ بن محمد مجہول ہے۔ |
۶۱۲ |
|
حضرت عبدالله بن عمر وبن عاص کی روایت کردہ احادیث حضرت ابوہریرہ کی مرویات سے زائدہیں رضی الله تعالٰی عنہم۔ |
۲۹۵ |
علی بن جدعان شیعی ضعیف ہے۔ |
۶۱۲ |
|
تصانیف محدثین میں عبدالله بن عمرو بن العاص رضی الله تعالٰی عنہ کی روایت کردہ صرف سات سو جبکہ ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ کی روایت کردہ پانچ ہزار تین سو احادیث پائی جاتی ہیں۔ |
۲۹۵ |
ابن عباس صحابی اور مجاھد وبکر و طلق تابعی ہیں۔ |
۶۱۵ |
|
عبدالله بن عمرو بن العاص رضی الله تعالٰی عنہ مصر میں جبکہ ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ مدینہ منورہ میں سکونت پذیر تھے۔ |
۲۹۵ |
ام یعقوب اسدیہ کبار تابعین ثقات و صالحات سے ہیں بعض نے صحابیہ کہا۔ |
۶۲۹ |
|
حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کرنے والے تقریبًا آٹھ سو افراد تھے۔ |
۲۹۵ |
|
|
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع