30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
آستانہ کعبہ،مصحف اور دست وپائے علماء واولیاء کا بوسہ جائز ہے۔ |
۳۴۲ |
سید کی بد مذہبی اگر حد کفر تك پہنچ گئی ہو تو اس کی تعظیم حرام کہ اب وہ سید ہی نہ رہا۔ |
۴۲۳ |
|
حرمین شریفین کے درودیوار کوتبرکا مس کرنا اور بوسہ دینا اہل حب وولاء کا دستور ہے۔ |
۳۴۳ |
سجدہ دو قسم ہے سجدہ عبادت اور سجدہ تحیت،اول غیر خد اکے لئے کفرہے اور ثانی غیر خدا کے لئے حرام ہے۔ |
۴۲۳ |
|
نقش نعل پائے حضور پور نور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو بوسہ دینے اور آنکھوں سے لگانے کے بارے میں علماء ومشائخ کرام کے ارشادات عالیہ۔ |
۳۴۵ |
کفر وشرك کبھی کسی شریعت میں جائز نہیں ہوسکتا۔ |
۴۲۳ |
|
نقشہ روضہ مقدسہ کی زیارت اور اس کو بوسہ دینے سے متعلق ارشادات علماء۔ |
۳۴۹ |
غیر الله کو سجدہ عبادت شرك مہین ہے۔ |
۴۲۹ |
|
اصل کلی یہ ہے کہ تعظیم پر منتسب بارگاہ کبریا بالخصوص محبوبان خدا انحاء تعظیم حضرت عزت جل وعلا سے ہے۔ |
۳۶۶ |
غیر الله کو سجدہ تحیت حرام وگناہ کبیرہ ہے۔ |
۴۲۹ |
|
کافر کوسلام کرنا حرام ہے۔ |
۳۷۸ |
سجدہ تحیت کی تکفیر جو جماعت فقہاء سے منقول ہے وہ کفر صوری پر محمول ہے۔ |
۴۳۰ |
|
غیر کعبہ معظمہ کا طواف تعظیمی ناجائز ہے۔ |
۳۸۲ |
پیرو مزار کو سجدہ تحیت نہ تو مباح اور نہ ہی شرك حقیقی۔ |
۴۳۰ |
|
غیر خدا کو سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے |
۳۸۲ |
محال ہے کہ مولٰی عزوجل کبھی کسی مخلوق کو اپنا شریك کرنے کا حکم دے اگر چہ پھر اسے بھی منسوخ فرمائے۔ |
۴۳۰ |
|
شریعت مطہرہ نے انسان کے سر سے پاؤں تك جمیع جہات میں جدا جدا احکام رکھے ہیں۔ |
۳۹۵ |
ملائکہ میں سے کوئی کسی کو ایك آن کے لئے بھی شریك خدا نہیں بناسکتا۔ |
۴۳۰ |
|
احکام مختلفہ کے ثواب بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ |
۳۹۵ |
سجدہ عبادت کو جائز مان کر کوئی مسلمان نہیں رہتا۔ |
۴۳۵ |
|
سر سے پاؤں تك جملہ جوارح میں معاصی جدا جدا ہیں۔ |
۳۹۵ |
صحابہ کرام کا اعتقاد کہ نعمتیں اور دنیا و آخرت کی ہلاکتوں سے نجات حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی برکت اور آپ کے صدقے میں ملتی ہیں۔ |
۴۴۴ |
|
طواف تعظیمی غیر خدا کے لئے حرام ہے۔ |
۴۰۱ |
مصنف علیہ الرحمۃ کی تحقیق کہ تحریم سجدہ متفق علیہ ہے اور تکفیر میں چھ قول ہیں۔ |
۴۵۸ |
|
سجدہ غیر خدا کو قطعی حرام ہے۔ |
۴۰۷ |
ظہیریہ میں علی الاطلاق تکفیر کا حکم جزمی نہیں بلکہ بعض کی طرف نسبت ہے۔ |
۴۵۹ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع