30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رواہ ابوداؤد [1]عن ابن ابی ملکیۃ عنھا رضی اﷲ تعالٰی عنھا۔ |
اختیار کرے۔(امام ابوداؤد نے ابن ابی ملیکہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت فرمائی۔ت) |
کمان یا جوتا اجزائے بدن نہیں۔جب ان میں مشابہت پر لعنت فرمائی تو بال کہ اجزائے بدن ہیں ان میں مشابہت اور کس درجہ سخت تر ہوگی۔ولہذا عورت کو حرام ہے کہ اپنے بال تراشے کہ اس میں مردوں سے مشابہت ہے یوہیں مردوں کو حرام ہے کہ اپنے بال عورتوں کی طرح بڑھائیں اور وجہ دونوں جگہ وہی مشابہت ہے کہ حرام وموجب لعنت ہے۔درمختار میں ہے:
|
قطعت شعر راسھا اثمت ولعنت و المعنی المؤثر التشبہ [2]۔ |
کسی عورت نے اپنے سر کے بال کاٹے تو وہ اس کا م کی وجہ سے گناہگار ہوگی اور اس پر اﷲ تعالٰی کی لعنت ہوگی اور اس میں معنی موثر"تشبہ"ہے۔(ت)
|
ردالمحتار میں ہے:
|
ای العلۃ الموثرۃ فی اثمھا التشبہ بالرجال فانہ لایجوز کالتشبہ بالنساء حتی قال فی المجتبٰی یکرہ غزل الرجل علی ھیأۃ غزل النساء[3] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
عورت کے گناہگار ہونے میں اثر انداز ہونے والی علت مردوں سے مشابہت ہے اس لئے کہ وہ جائز نہیں۔جیسے مردوں کی عورتوں سے مشابہت درست نہیں۔یہاں تك کہ "المجتبٰی"میں فرمایا کہ مردوں کا عورتوں کی ہیئت پر سوت کاتنا مکروہ ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۳۷: از موضع سران ڈاکخانہ بشندور تحصیل وضلع جہلم مرسلہ حافظ سجاد شاہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لحیہ دارز کو چار انگل زنخدان سے نیچے رکھ کر کٹانی چاہئے یا قبضہ مع استخوان لحیین رکھ کر کٹائی جائے؟
الجواب:
مستر سل چار انگل چاہئے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع