30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۳۴:از علی گڑھ کٹرہ سعید خاں مرسلہ حافظ سعید احمد صاحب لکھنوی معرفت حافظ محمد عمرصاحب مسجد عطا شہید ۲۵ ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
طحطاوی حاشیہ درمختار جلد رابع میں ہے:
|
ورد فی بعض الآثار النھی عن قص الاظافر یوم الاربعاء فانہ یورث البرص [1]۔ |
بعض آثار میں بدھ کے دن ناخن کترنے کی ممانعت آئی ہے کہ اس کام سے مرض برص(پھلبہری)پیدا ہوتاہے۔ت) |
اس کی سند کیا ہے اور یہ روایت کس درجہ کی ہے۔اور یہ روایت بظاہر معارض ہے روایت دیلمی کی:
|
ومن قلمھا یوم الاربعاء خرج منہ الوسواس و الخوف دخل فیہ الامن والشفاء [2]۔ |
جس نے بدھ کے روز ناخن کاٹے اس سے شیطانی وسوسے اور خوف نکل جائیں گے اور اس میں امن اور شفاء داخل ہو جائیں گی(ت) |
تو ان دونوں روایتوں میں تطبیق یا ترجیح کی کیا صورت ہے اور بدھ کے دن ناخن تراشنا کیسا ہوگا؟ در صورت امتناع حافظ ابن حجر کے قول انہ یستحب کیفما احتاج الیہ(بال کاٹنے مستحب ہیں جس کیفیت(اور نوعیت سے)اس کی ضرورت پڑے۔ ت)کی صحت کی کیا صورت اور در صورت استحباب حافظ کے قول:
|
ولم یثبت فی کیفیتہ شیئ ولا فی تعیین یوم لہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم [3]۔ |
ناخن کترنے کی کیفیت(کہ کس طریقے اور ترتیب سے کترے جائیں)اور کس دن کترے جائیں اس بارے میں حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے کچھ ثابت اور مروی نہیں۔(ت) |
کی صحت کی کیا صورت ہوگی؟
الجواب:
اصل مسئلہ یہی ہے کہ وہ کیف مااتفق مستحب ومسنون ہے اور دن کی تعیین یا منع میں کوئی حدیث ثابت نہیں،یوم الاربعاء ممانعت کی حدیث دونوں ضعیف ہیں،اگر روز چہارشنبہ وجوب کا دن آجائے مثلًا انتالیس۳۹ دن سے نہیں تراشے تھے آج بدھ کو چالیسواں دن ہے اگرآج بھی نہیں تراشتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع