30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لکن ھذا ھو نص الحدیث فقد اخرج احمد عن والدابی الملیح والطبرانی فی الکبیر عن شداد بن اوس وکابن عدی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم بسند حسن حسنہ الامام السیوطی ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال الختان سنۃ للرجال ومکرمۃ للنساء [1] اقول: و لایندفع الاشکال بما فعل الامام البزازی فانہ ان فرض سنۃ فلیست کل سنۃ یباح لھا النظر الی العورۃ ومسھا الاتری ان الاستنجاء بالماء سنۃ ولا یحل کشف العورۃ فان لم یجد سترا وجب علیہ ترکہ وانما ابیح لہ ذٰلك فی ختان الرجل لانہ من شعائر الاسلام حتی لو ترکہ اھل بلدۃ قاتلھم الامام کما فی فتح القدیر یرو |
لیکن یہ صراحۃً حدیث ہے کہ امام احمد نے ابوالملیح کے والد کے حوالے سے اس کی تخریج فرمائی اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں شداد بن اوس کی سند سے جیسا کہ ابن عدی نے سند حسن کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے نیز امام سیوطی نے اس کی تحسین فرمائی(یعنی اس کو حدیث حسن قرارد یا)حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:ختنہ مردوں کے حق میں سنت ہے اور عورتوں کے لئے ایك عمدہ کام ہے۔ میں کہتاہوں کہ امام بزازی کی کارروائی سے اشکال دفع نہیں ہوتا کیونکہ اگر اس کام کو سنت بھی فرض کرلیا جائے تو بھی نظر الی الفرج کا جواز کیسے ہوگا)اس لئے ہر سنت میں بھی یہ گنجائش نہیں کہ اس کی وجہ سے محل ستر(عورۃ)کو دیکھنا اور مس کرنا مباح ہو،کیا تم نہیں دیکھتے کہ پانی سے استنجا کرنا سنت ہے لیکن اگر کوئی باپردہ جگہ نہ ہو تو پھر بر سرعام کھلی جگہ ستر ننگا کرکے استنجا کرناجائز اورمباح نہیں۔بلکہ اس صورت میں ترك استنجا واجب ہے۔اور مردوں کے ختنہ میں اس کی اس لئے اجازت دی گئی کہ یہ کام شعائر اسلام میں سے ہے حتی کہ اگر کسی شہروالے اسے چھوڑ دیں تو امام ان سے جنگ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع