30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فیقعون فی شدید الذنب ھذا واحتج البزازی علی استنانہ بان لوکان مکرمۃ لم تختن الخنثی لاحتمال ان یکون امرأۃ ولکن لا کالسنۃ فی حق الرجال [1] اھ وتعقبہ العلامۃ ش فقال ختان الخنثی لاحتمال کونہ رجلا وختان الرجل لایترك فلذا کان سنۃ احتیاطا ولایفید ذٰلك سنیتہ للمرأۃ تأمل [2] اھ و کتبت فیما علقت علیہ اقول:کان یتمشی ھذالولم یختن منھا الا الذکر اذ لامعنی لختان الفرج قصدا الی الختان لاحتمال الرجولیۃ وقد صرح فی السراج ان الخنثٰی تختن من کلا الفرجین ولا شك ان النظر الی العورۃ لاتباح لتحصیل مکرمۃ [3]اھ |
دم سے تشبیہ دیں۔پھر اس طرح کی حرکت سے شدید گناہ میں پڑ جائیں۔اور امام بزازی نے(ختنہ کے)سنت ہونے پر استدلال کیا(اور دلیل پیش کی)اگر یہ کام صرف عمدہ اور اعزازی ہوتا تو پھر ہیجڑے کا ختنہ نہ کیا جاتا اس احتما ل پر کہ شاید عورت ہو لیکن یہ اسی طرح نہیں جیسے مردوں کے حق میں سنت ہے۔اھ علامہ"ش"نے بزازی کاتعاقب کیا اور فرمایا کہ ہیجڑے کا ختنہ کرنا اس کے مرد ہونے کے احتمال پر ہے۔اور مرد کا ختنہ کبھی متروك نہیں،پھر اس لئے یہ احتیاطی سنت ہے۔اور یہ بات عورت کے لئے سنیت کا فائدہ نہیں دیتی،غور اور سوچ کیجئے اھ میں نے اپنی تعلیق میں اس کے متعلق تحریر کیا ہے۔میں کہتاہوں کہ یہ بات چل سکتی تھی جبکہ ان میں سے سوائے مرد کے کسی کا ختنہ نہ کیا جاتا کیونکہ فرج(شرمگاہ)کے قصدا ختنہ کرنے کا صرف اس کی مردانگی (رجولیت)کے احتمال پر کوئی مفہوم اور مطلب نہیں۔اور سراج میں یہ صراحت کی گئی کہ ہیجڑے کے دونوں فرجوں (شرمگاہوں)کا ختنہ کیا جائے،اور اس میں کوئی شك وشبہ نہیں کہ محل ستر(عورۃ)کو کسی عمدہ کام کے حصول کے لئے دیکھنا مباح نہیں ہوسکتا اھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع