30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سنۃ [1]اھ وجزم بہ البزازی فی وجیزہ والحدادی فی سراجہ وقال فی الہندیۃ عن المحیط اختلف الروایات فی ختان النساء ذکر فی بعضھا انہ سنۃ ھکذا حکی عن بعض المشائخ وذکر شمس الائمۃ الحلوانی فی ادب القاضی للخصاف ان ختان النساء مکرمۃ [2] اھ ورأیتنی کتبت علیہ ای فیکون مستحبا وھو عند الشافعیۃ واجب فلا یترك مااقلہ الاستحباب مع احتمال الوجوب لکن الھنود لایعرفونہ ولو فعل احد یلومونہ و یسخرون بہ فکان الوجہ ترکہ کیلا یبتلی المسلمون بالاستھزاء بامر شرعی وھذ ا نظیر ماقال العلماء ینبغی للعالم ان لایرسل العذبۃ علی ظھرہ وان کان سنۃ اذا کان الجھال یسخرون منہ ویشبھون بالذنب |
سنت ہے اھ اور بزازی نے وجیز میں اس پر اظہار یقین کیا اور حدادی نے اپنی سراج میں اور فتاوٰی عالمگیری میں محیط سے نقل کیا ہے کہ عورتوں کے ختنہ میں اختلافات روایات ہے، چنانچہ بعض میں یہ ذکر کیا گیا کہ وہ سنت ہے۔چنانچہ بعض مشائخ سے اسی طرح حکایت کی گئی،اور شمس الائمہ حلوانی نے خصاف کی ادب القاضی سے ذکر کیا کہ عورتوں کا ختنہ عمدہ فعل ہے اھ،مجھے یاد ہے کہ میں نے اس پر تحریر کیا ہے کہ عورتوں کا ختنہ کرنا مستحب ہے لیکن شافعیوں کے نزدیك واجب ہے لہذا یسے کام کو نہ چھوڑا جائے جو کم سے کم مستحب ہے باوجود یہ کہ اس میں وجوب کا احتمال ہے لیکن ہمارے ہاں کے ہندی لوگ اس کو نہیں پہچانتے،لہذا اگر یہاں کوئی ایسا کرے تو لوگوں اس کو ملامت کریں گے اور اس کا مذاق اڑائیں گے۔لہذا عمدہ وجہ اسے چھوڑدینا ہے تاکہ لوگ ایك حکم شرعی کے ساتھ ہنسی مذاق میں مبتلا نہ ہوجائیں،اور اس کی نظیر (مثال)وہ ہے کہ علمائے کرام نے ارشاد فرمایا کہ عالم کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی پیٹھ پر(دستار کا)شملہ نہ چھوڑے اگر چہ یہ کام سنت ہے۔اگر ناواقف لوگ(اس فعل سے)مذاق اڑائیں اوراس کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع