30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مصری بحرالرائق پھر علامہ ابوالاخلاص حسن بن عمار شرنبلالی غنیہ ذوی الاحکام،پھر علامہ مدقق محمد بن علی دمشقی درمختار پھر علامہ سیدی احمد مصری حاشیہ مراقی الفلاح سب علماء کتاب الصوم میں فرماتے ہیں:
|
المعنی للکل واللفظ للحاشیۃ الدروالغرر الاخذ من اللحیۃ وھی دون القبضۃ کما فعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد واخذ کلھا فعل مجوس الاعاجم والیھود والھنود بعض اجناس الافرنج [1]۔ |
(مفہوم سب کا ایك ہے البتہ الفاظ حاشیہ الدرروالغرر کے ہیں) یعنی جب داڑھی ایك مشت سے کم ہو تو اس میں کچھ لینا جس طرح بعض مغربی اور زنانے زنخے کرتے ہیں یہ کسی کے نزدیك حلال نہیں اور سب لے لینا ایرانی مجوسیوں اور یہودیوں اور ہندیوں اور بعض فرنگیوں کا فعل ہے۔ |
نص ۶ تا ۱۲:امام برہان الملۃ والدین فرغانی ہدایہ پھر امام زیلعی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق پھر علامہ نجم الدین طوری تکملہ بحرالرائق پھر علامہ شرنبلالی غنیہ پھر سید ابوالسعود ازہری فتح اﷲ المعین حاشیہ کنز پھر علامہ سید احمد طحطاوی حاشیہ تنویر پھر علامہ سیدی محمد امین افندی ردالمحتار علی الدرالمختار سب علماء کتاب الجنایات مسئلہ جنایت بحلق لحیہ میں فرماتے ہیں:
|
یؤدب علی ذٰلك لارتکابہ المحرم(ھذا ھو الکل الا الطرفین فلفظھما)یؤدب علی ارتکاب مالایحل [2]۔ |
داڑھی مونڈنے والے کو سزادی جائے کہ وہ فعل حرام کا مرتکب ہوا(یہ سب کے الفاظ ہیں سوائے طرفین کے پس ان کے الفاظ یہ ہیں اسے ایسے کام کے کرنے پر سزادی جائے جوحلال نہیں۔ت) |
نص ۱۳ تا ۱۷:علامہ تورپشتی مصابیح پھر علامہ طیبی شرح مشکوٰۃ پھر مولانا علی قاری مکی مرقاۃ پھر علامہ فتنی مجمع البحار پھر شیخ محقق لمعات میں فرماتے ہیں:
|
قص اللحیۃ کان من صنع الاعاجم وھو |
داڑھی تراشنا پارسیوں کا کام تھا اوراب توبہت |
[1] غنیہ ذوی الاحکام کتاب الصوم باب موجب الافساد مہری کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۸ وبحرالرائق ۲/ ۲۸۰،حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص ۳۷۲ ودرمختار ۱/ ۱۵۲ و فتح القدیر ۲/ ۲۷۰
[2] الہدایہ کتاب الدیات مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۵۸۴ وتبیین الحقائق ۶/ ۱۳۰ و بحرالرائق ۸/ ۳۳۱،غنیہ ذوی الاحکام مع الدرر کتاب الدیات ۲/ ۱۰۴ وطحطاوی علی الدرالمختار ۴/ ۲۸۰،فتح المعین ۳/ ۴۸۷ و ردالمحتار ۵/ ۳۷۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع