30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعنی اس طرح یہ حدیث حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے حضرت عبداﷲ بن عمرورضی اﷲ تعالٰی عنہما نے روایت فرمائی،حضرت شیخ محقق ومولانا عبدالحق محدث دہلوی لمعات التنقیح میں فرماتے ہیں:
|
عقد لحیتہ الاکثرون علی ان المراد تجعید اللحیۃ بالمعالجۃ وانما کرہ ذٰلك لانہ فعل من لیس من اھل الدین وتشبہ بھم وقیل کانوا یعقدون فی الحروب فی زمن الجاھلیۃ تکبراو تعجبافامروا بارسالھا وذٰلك من فعل الاعاجم وقال التورپشتی یقتلونھا کذا فی مجمع البحار والاول ھو الوجہ [1]اھ مختصرًا۔ |
داڑھی باندھنے سے مراد اکثر اہل علم کے نزدیك کسی دوا وغیرہ سے اسے پیوست کرنا یا جوڑنا ہے اور اسے بایں وجہ ناپسند فرمایا کہ یہ ان لوگوں کا فعل ہے اور طریقہ ہے جو دیندار نہیں اور ان کی مشابہت اختیار کرنی ہے۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ زمانہ جاہلیت کے ایام گرمامیں ازراہ تکبر وعجب اپنی داڑھیوں کو باندھ دیا کرتے تھے اس لئے انھیں داڑھیاں کھلی اور آزاد چھوڑے رکھنے کا حکم دیا گیا اور یہ عجمیوں کی روش تھی اور طریقہ تھا اور علامہ تو رپشتی نے فرمایا لوگ ان کو مثل فتیلہ کے بٹ دیا کرتے تھے یونہی مجمع البحار میں مذکور ہے۔ اور پہلا قول ہی اصل سبب اور وجہ ہے عبارت مختصر مکمل ہوئی)۔(ت) |
علامہ طیبی حاشیہ مشکوٰۃ پھر علامہ طاہر مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں:
|
عقد ای جعدھا بالمعالجۃ ونھی عنہ لما فیہ من التشبہ بمن فعلہ من الکفرۃ [2]۔ |
یعنی داڑھی باندھنے سے مراد اس کا مجعد ومرغول بنانا ہے کہ یہ کافروں کا فعل ہے اور اس میں ان سے تشبہ ہے۔ |
داڑھی چڑھانے والے حضرات کو ڈھانے باندھ باندھ کر داڑھی مجعد ومرغول کرتے اور متکبر ٹھاکروں جاٹوں کی صورت بنتے ہیں ان صحیح حدیثوں کو جن کے ہر ہر راوی کی ثقاہت وعدالت ہم نے تقریب التہذیب امام خاتم الحفاظ ابن حجر سے نقل کردی یادرکھیں اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی بیزاری و بے علاقگی کو ہلکا نہ جانیں اور داڑھی منڈانے کترنے والے زیادہ سخت عذاب وآفت کے منتظر رہیں جب داڑھی باقی رکھ کر اس کی صفت وہیئت میں کافروں سے تشبہ اس درجہ باعث بیزاری محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہوا تو سرے سے داڑھی قطع یاحلق کردینا اور پورے پورے مجوسیوں مچھندروں کی صورت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع