30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بنی آدم باللحی وفی وصف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان کث اللحیۃ وکذٰلك ابوبکر وکان عثمان طویل اللحیۃ دقیقھا وکان علی عریض اللحیۃ قد ملأت مابین منکبیہ ووصف بعض بنی تمیم من رھط الاحنف بن قیس قال(وعبارۃ الاحیاء قال اصحاب الاحنف بن قیس)وددنا انا اشترینا للاحنف اللحیۃ بعشرین الفافلم یذکر حنفہ فی رجلہ ولا عورہ فی عینہ وذکر کراہیۃ عدم لحیتہ وکان عاقلا حلیما وقدروینا من غریب تاویل قولہ تعالٰی یزید فی الخلق مایشاء قال اللحی وذکر عن شریح القاضی قال(ولفظ الاحیاء قال شریح)وددت لو ان لی لحیۃ بعشرۃ اٰلاف ففی اللحیۃ من خفایا الھوٰی ودقائق اٰفات النفوس ومن البدع المحدثۃ ثنتا عشرۃ خصلۃ من ذٰلك النقصان منھا وذٰلك مثلۃ وذکر عن جماعۃ ان ھذا من اشراط الساعۃ [1] اھ ملخصًا۔ |
زینت بخشی،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حلیہ شریف میں سے ریش مبارك گھنی تھی اور ایسے ہی ابوبکر صدیق وعثمان غنی کی داڑھی دراز وباریك مولٰی علی کی داڑھی چوڑی سارا سینہ بھرے ہوئے رضی اﷲ تعالٰی عنہم،احنف بن قیس(کہ اکابر ثقات تابعین وعلماء وحکمائے کاملین سے تھے زمانہ رسالت میں پیدا ہوئے ۶۷ھ یا ۷۲ھ میں وفات پائی)عاقل وحلیم تھے(پاؤں میں کج تھا ایك آنکھ جاتی رہی تھی داڑھی خلقۃً نہ نکلی تھی)ان کے اصحاب نہ اس کج پر افسوس کرتے نہ یك چشمی پر بلکہ داڑھی نہ ہونے کی کراہت ذکر کرتے اور کہتے ہمیں تمنا ہے کاش اگر بیس ہزار کو ملتی تو احنف کیلئے داڑھی خریدتے۔اور تفسیروں سے یہ آیۃ یزید فی الخلق مایشاء کی تفسیر میں ہمیں روایت پہنچی کہ اﷲ تبارك وتعالٰی بڑھاتاہے صورت میں جو چاہے اس سے داڑھی مرا دہے۔ شریح قاضی(کہ اجلہ ائمہ واکابر تابعین سے ہیں زمانہ رسالت میں ولادت پائی بلکہ کہاگیا صحابی ہیں امیر المومنین عمر فاروق پھر امیر المومنین مولی علی کی سرکار میں قاضی تھے امیر المومنین علی فتاوٰی میں ان سے رائے لیتے ۸۰ہجری سے پہلے یا بعد انتقال ہوا داڑھی خلقۃ نہ تھی)وہ فرماتے کہ مجھے آرزو ہے کہ کاش دس ہزار دے کر داڑھی مل جاتی تو داڑھی میں شیطانی خواہشوں کے خفایا اور نفسانی |
[1] قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب الفصل السادس والثلاثون دار صادر بیروت ۲/۱۴۲ تا ۱۴۴،احیاء العلوم النوع الثانی فیما یحدث فی البدع الخ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۱۴۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع