30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وجہ سابع___ آیت ۱۴:قال جل ثناؤہ(اﷲ تعالٰی بہت زیادہ تعریف کا حق رکھنے والی ذات،جس کی تعریف بڑی ہے۔نے ارشاد فرمایا):
|
"وَمَنۡ یُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیۡرَ سَبِیۡلِ الْمُؤْمِنِیۡنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ ؕ وَسَآءَتْ مَصِیۡرًا﴿۱۱۵﴾٪ "[1] |
جوخلاف کرے رسول کا حق واضح ہوئے پر اور چلے راہ مسلمانان کے سوا راہ ہم اسے اس کے حال پر چھوڑدیں اور جہنم میں ڈالیں اور کیا بری پلٹنے کی جگہ۔ |
مسلم تو مسلم کفار تك جانتے ہیں کہ رو ز ازل سے مسلمانوں کی راہ داڑھی رکھنی ہے۔اہلبیت کرام وصحابہ عظام وائمہ اعلام اور ہر قرن وطبقہ کے اولیائے امت وعلمائے ملت بلکہ قرون خیر میں تمام مسلمان داڑھی رکھتے تھے یہاں تك کہ ازالہ تو ازالہ اگر خلقۃً کسی کی داڑھی نہ نکلتی اس پر سخت تاسف کرتا اور یہ ہر عیب سے بد تر عیب سمجھاجاتا علمائے کرام علامات قیامت میں گناکرتے کہ آخر زمانہ میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے کہ داڑھیاں منڈائیں کتروائیں گے۔اس پیشگوئی کے مطابق یہ داڑھی منڈوں مخرشوں مترشوں کی تراشیں خراشیں کافروں مشرکوں کی دیکھا دیکھی مدتہا مدت کے بعد مسلمانوں میں آئیں وہ بھی رندواوباش وبدوضع لوگوں میں،پھر ان میں بھی جو ایمان سے حصہ رکھتے ہیں اب تك اپنی اس حرکت کو مثل اورمعاصی وکبائر کے برا جانتے ہیں اور طریقہ اسلامی سے جدا سمجھتے بلکہ ان میں بعض خوش عقیدہ اپنے معظمین دینی کے سامنے لجاتے انھیں منہ دکھاتے شرماتے ہیں۔الحمدﷲ یہ ان کے ایمان کی بات ہے شامت نفس سے گناہ کریں لیکن اسے گناہ وقبیح جانیں مگر چوری سرزوری والوں سے خدا کی پناہ کہ داڑھی رکھنے پر قہقہے اڑا کر شعار اسلام کے ساتھ نفس اسلام وایمان بھی مونڈ کر پھینك دیں۔امام اجل عارف باﷲ سیدی محمد بن علی بن عباس مکی قدس سرہ الملکی کتاب مستطاب طریق المرید للوصول الی مقام التوحید پھر امام ہمام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں:
|
وھذالفظ المکی قال فی ذکر سنن الجسد ذکر ما فی اللحیۃ من المعاصی والبدع المحدثۃ قد ذکر فی بعض الاخبار ان ﷲ تعالٰی ملئکۃ یقسمون والذی زین |
یعنی یہ ذکر ہے کہ ان معصیتوں اور نو پیدا بدعتوں کا جولوگوں نے داڑھی میں نکالیں حدیث میں ہے اﷲ عزوجل کے کچھ فرشتے ہیں کہ قسم یوں کھاتے ہیں اس کی قسم جس نے فرزند ان آدم کو داڑھی سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع