30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نیز ہمیں ست [1]۔ |
اور اس قسم کے دوسرے کام کرنے کے حرام ہونے کی یہی علت اور سبب ہے۔(ت) |
وجہ رابع___ آیت ۶:قال مجدہ:
|
ذٰلِکَ ٭ وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعٰٓئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ ﴿۳۲﴾"[2] |
بات یہ ہے اور جو بڑائی کرے دین الٰہی کے شعاروں کی تو وہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہیں۔ |
آیت ۷:قال عزشانہ،:
|
"یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعٰٓئِرَ اللہِ"[3] |
اے ایمان ولو! حلال نہ ٹھہرا لو دین خدا کے شعاروں کو۔ |
شك نہیں کہ داڑھی شعار دین اسلام سے ہے۔امام بدرمحمود عینی عمدۃ القاری شرح بخاری میں ختنہ کی نسبت نقل فرماتے ہیں:
|
انہ شعائر الدین کالکلمۃ وبہ یتمیز المسلم من الکافر [4]۔ |
ختنہ کرنا کلمہ شریف کی طرح شعائر اسلام میں سے ہے اس سے مسلمان اور کافر میں باہم امتیاز ہوتاہے۔(ت) |
جب ختنہ حالانکہ امر خفی کلمہ طیبہ کے شعائر دین اور وجہ امتیاز مومنین وکافرین قرار پایا یہاں تك کہ مسلمانان ہند نے اس کا نام بھی"مسلمانی"رکھ لیا۔تو داڑھی کہ امر ظاہر ہے اورپہلی نظر اسی پر پڑتی ہے بدرجہ اولٰی شعائر الاسلام ومابہ الامتیاز کرام ولیام ہے اور بعض کفار کا اس میں شریك ہونا منافی شعاریت اسلام نہیں جس طرح ختنہ کرنے میں یہود شریك مسلمین ہیں خو د نفس آیات کریمہ ہی میں دیکھئے مورد نزول جانوران ہدی میں کہ حرم محترم کو قربانی کے لئے بھیجے جاتے ہیں انھیں شعار دین الٰہی فرمایا حالانکہ تمام مشرکین عرب اس فعل میں شریك تھے اور جب داڑھی شعار دین ہے اور بے شك یونہی ہے تو بحکم قرآن اس کے ازالہ کو حلال ٹھہرالینا حرام اور اس کی تعظیم تقوٰی قلوب کا کام۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع