30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نَصِیۡبًا مَّفْرُوۡضًا ﴿۱۱۸﴾ۙ وَّلَاُضِلَّنَّہُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّہُمْ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الۡاَنْعٰمِ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللہِ ؕ "[1] |
بندوں میں سے اپنا ٹھہرا ہوا حصہ اور میں ضرور انھیں بہکا دوں گا اور ضرور خیالی لالچوں میں ڈالوں گا اور ضرور انھیں حکم دوں گا کہ وہ چوپایوں کے کان چیریں گے اور بیشك انھیں حکم دوں گا کہ اﷲ کی بنائی چیز بگاڑیں گےھ۔ |
یہی وہ آیہ کریمہ ہے جس کی رو سے حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے زنان مذکورہ پر لعنت فرمائی اور اس کی علت یہی خدا کی بنائی چیز بگاڑنی بتائی،بعینہٖ یہی کیفیت داڑھی منڈانے کی ہے۔منہ کے بال نوچنے والیاں تغیر خلق اﷲ کرتی ہیں یوں ہی داڑھی منڈوانے والے تو یہ سب اسی فلیغیرن خلق اﷲ(تو وہ اﷲ تعالٰی کی بناوٹ میں تبدیلی کرینگے۔ت)میں داخل اور شیطان کے محکوم اور اﷲ ورسول کے ملعون ہیں۔امام جلال الدین سیوطی اکلیل فی استنباط التنزیل میں زیر آیہ کریمہ فرماتے ہیں:
|
یستدل بالاٰیۃ علی تحریم الخصاء والوشم وما یحری مجراہ من الوصل فی الشعر وبردالاسنان و التنمص وھو نتف الشعر من الوجہ[2]۔ |
آیۃ مذکورہ سے استدلال کیاجاتاہے کہ خصی کرنے،بدن گودنے اور ان جیسے دیگر اعمال مثلا بال جوڑنے،دانتوں میں کشادگی پیدا کرنے اور چہرے کے بال نوچنے کی حرمت پر۔(ت) |
تفسیر مدارك شریف میں ہے:
|
فلیغیرن خلق اﷲ بالخصاء اوالوشم او تغیر الشیب بالسواد والتخنث اھ [3]باختصار۔ |
اﷲ تعالٰی کی بنائی ہوئی صورت کو تبدیل کریں گے یعنی خصی کرنے،بدن گدوانے سفید بالوں کو سیاہ کرنے اور زنانہ اوصاف اپنانے میں۔(مختصرًا عبارت مکمل ہوئی)۔(ت) |
شیخ محقق اشعۃ اللمعات میں زیر حدیث مذکور المغیرات خلق اﷲ(اﷲ کی بناوٹ کو بدلنے والی عورتیں۔ت)فرماتے ہیں:
|
علت وحرمت مثلہ وحلق لحیہ وامثال آں |
مثلہ یعنی حلیہ بگاڑنا اور داڑھی مونڈنے یا منڈوانے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع