30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام قاضی عیاض شفا شریف میں فرماتے ہیں:کث اللحیۃ تملؤ صدرہ [1]۔ریش مطہر گھنی سینہ منورہ کو بھرے ہوئے۔
یہاں"سینہ"سے مراد اس کا بالائی کنارہ ہے کہ گلے کی انتہا ہے صرح بہ الشراح وھوا لواضح الصراح(شارحین نے اس کی تصریح فرمائی جو بالکل واضح اور صاف ہے۔ت)اور عادت کریمہ تھی کہ کوئی امر کیسا ہی مرغوب وپسندیدہ ہو جب شرعا لازم ضروری نہ ہوتا تو بیان جواز کے لئے گاہے ترك بھی فرمادیتے یا قولا خواہ تقریرا جواز ترك بتادیتے اس لئے علمائے کرام نے سنت کی تعریف میں مع الترك احیانا اضافہ کیا یعنی جسے سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اکثر کیا اور کبھی کبھی ترك بھی فرمادیا ہو۔ولہذا محققین فرماتے ہیں کہ ایسی مواظبت دائمہ ہمیشہ دلیل وجوب ہے۔ محقق علی الاطلاق فتح القدیر باب الاذان میں فرماتے ہیں:
|
عدم الترك مرۃ دلیل الوجوب [2]۔ |
ایك مرتبہ بھی نہ چھوڑنا وجوب کی دلیل ہے۔(ت) |
نیز باب الاعتکاف میں فرمایا:
|
ھذہ المواظبۃ المقرونۃ بعدم الترك مرۃ لما اقتربت بعد الانکار علی من لم یفعلہ من الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کانت دلیل السنۃ والا کانت دلیل الوجوب [3]۔ |
یہ دوام یعنی ہمیشگی جو کبھی ایك دفعہ بھی نہ چھوڑنے سے مقرون ہوجب ان صحابہ کرام سے جنھوں نے اسے نہ کیا ہو ان سے عدم انکار پر مقترن ہو تو دلیل سنت ہے ورنہ دلیل وجوب ہے۔(ت) |
دوم طریق خصوص:اس میں بھی بحمداﷲ تعالٰی فیض جلیل قرآن جلیل سے آیات کثیرہ عبدذلیل پر فائض برکات ہوئیں فاقول: وباﷲ اتوفیق(پس میں اﷲ تعالٰی کی توفیق ومدد سے ہی کہتاہوں۔ت)یہ نفیس طریق وجوہ عدیدہ رکھتا ہے جن سے احیائے لحیہ کا امر یا طلب یا اس کے خلاف پر وعید یا مذمت ثابت ہو۔
وجہ ثالث ___ آیت ۵:قال تعالٰی وتقدس:
|
"وَ اِنۡ یَّدْعُوۡنَ اِلَّا شَیۡطٰنًا مَّرِیۡدًا ﴿۱۱۷﴾ۙ لَّعَنَہُ اللہُ ۘ وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ |
کافر نہیں پوجتے مگر شیطان سرکش کوجس پر خدا نے لعنت کی اور وہ بولا میں ضرور لے لوں گا تیرے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع