30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور احرام کھول دو تو شکار کرسکتے ہو۔(ت) [یعنی حدود حرم سے باہر شکار تمھاری پسند اور چاہت پر موقوف ہے مترجم] کی مثال اور عقاب درکنار عتاب بھی نہ ہونے کا خیال ہے۔شیطان کے بڑھاوے ایسے ہی ہوتے ہیں۔
|
"یَعِدُہُمْ وَیُمَنِّیۡہِمْ ؕ وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۱۲۰﴾"[1] |
شیطان ان سے وعدہ کرتاہے اور انھیں امید دلاتاہے اور شیطان ان سے سوائے دھوکے اور فریب کے کوئی وعدہ نہیں کرتا(یعنی اس کا ہر وعدہ سبز باغ اور فریب ہوتاہے)۔(ت) |
انتباہ:سنا گیا کہ اس منکر متکبر کی طرح کوئی اور حضرت بھی اس مسئلہ میں مخالفت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر تلے ہوئے ہیں اس نے اباحت محضہ کا ڈنڈا پکڑا اور وہ اپنے زور زور میں اور راہ چلے ہیں کہ داڑھی منڈا نا حرام نہیں۔اور مکروہ تحریمی میں خود اختلاف ہے کہ وہ حرمت سے قریب ہے یا حلت سے نزدیك مسلمانو! راہ فریب سے دور
"وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ ﴿۵﴾"[2](اور ہر گز تمھیں اﷲ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی)یہ ان قائل صاحب کا محض افترائے گندہ وایجاد بندہ ہے آج تك جہاں میں کسی عالم نے مکروہ تحریمی کو قریب بحلت نہ بتایا تمام کتب مذہب موجود ہیں حضرات شیخین وامام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہم میں یہ اختلاف بتایا جاتاہے کہ ان کے نزدیك مکروہ تحریمی عین حرام ہے اور ان کے نزدیك اقرب بحرام۔ تنویرالابصار وغیرہ عامہ اسفار میں ہے:
|
کل مکروہ حرام عند محمد وعندھما الی الحرام اقرب [3]۔ |
امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیك ہر مکروہ حرام ہے جبکہ امام صاحب اور امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیك حرام سے قریب تر ہے۔(ت) |
اور عند التحقیق یہ بھی صرف اطلاق لفظ کا فرق ہے معنی سب کا ایك مذہب خود امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ امام ابو یوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے ناقل کہ انھوں نے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے عرض کی:اذاقلت فی شیئ اکرہ فما رأیك فیہ جب آپ کسی شیئ کو مکروہ فرمائیں تو اس میں آپ کی کیا رائے ہوتی ہے؟ قال التحریم فرمایا حرام ٹھہرانا ذکر فی ردالمحتار[4] عن شرح التحریم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع